اگر پیٹرولیم لیوی کے نام پر عائد بھتہ ٹیکس ختم نہ کیا گیا تو ملتان سے لانگ مارچ شروع کردیا جائےگا، حافظ نعیم الرحمن پاکستان Roze News
پاکستان تازہ ترین

اگر پیٹرولیم لیوی کے نام پر عائد بھتہ ٹیکس ختم نہ کیا گیا تو ملتان سے لانگ مارچ شروع کردیا جائےگا، حافظ نعیم الرحمن

اگر پیٹرولیم لیوی کے نام پر عائد بھتہ ٹیکس ختم نہ کیا گیا تو ملتان سے لانگ مارچ شروع کردیا جائےگا، حافظ نعیم الرحمن

اگر پیٹرولیم لیوی کے نام پر عائد بھتہ ٹیکس ختم نہ کیا گیا تو ملتان سے لانگ مارچ شروع کردیا جائےگا، حافظ نعیم الرحمن

حکومت اعلان کررہی کہ ریلیف پیکیج میں 70 لاکھ افراد کو شامل کیا گیا، جبکہ ڈھائی کروڑ تو موٹرسائیکلیں ہیں، متوسط طبقات کو ریلیف دینے کیلئے بڑی گاڑیوں کیلئے قیمت دگنی کردی جائے۔ امیرجماعت اسلامی

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے ادارہ نورحق میں بین الاقوامی و ملکی موجودہ صورتحال پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ جماعت اسلامی اہل غزہ و فلسطین سے اظہار یکجہتی کے لیے ملک بھر میں بدھ کو غزہ مارچ منعقد کرے گی،اہل غزہ و فلسطینیوں کی امداد کے لیے مزید بھر پور کوششیں کی جائیں گی،کراچی میں منعقد ہونے والے عظیم الشان غزہ مارچ نے ثابت کردیا ہے کہ اہل کراچی کے دل اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔
جماعت اسلامی نے ہمیشہ فلسطین کے مظلوم عوام کے لیے آواز بلند کی ہے، جبکہ الخدمت فاؤنڈیشن اب تک تقریباً 10 ارب روپے کی امداد اہل غزہ تک پہنچا چکی ہے۔

پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کوئی سیاسی جماعت صرف نعرے نہیں لگا رہی بلکہ اپنے دفاتر میں نوجوانوں کے لیے فری آئی ٹی تعلیم کے مراکز قائم کررہی ہے۔ بنوقابل کا دائرہ مزید وسیع کیا گیا ہے اور لاہور میں ایک جدید انسٹیٹیوٹ بھی قائم کردیا گیا ہے، جہاں پاکستانی شہریوں کے ساتھ ساتھ اہل غزہ کو بھی مفت آئی ٹی تعلیم فراہم کی جائے گی۔

جماعت اسلامی ایک پرامن جماعت ہے، ہمارے احتجاج، جلسے اور دستخطی مہم مسلسل جاری ہے، ہم ایک دن کے لیے بھی اسلام آباد مارچ کے اپنے حق سے دستبردار نہیں ہوئے۔ اگر حکومت نے پیٹرولیم لیوی کے نام پر عائد بھتہ ٹیکس ختم نہ کیا تو جماعت اسلامی اپنا لانگ مارچ دوبارہ شروع کرے گی۔ ہمارا پورا پروگرام تیار ہے، صرف اعلان کرنا باقی ہے۔ ہم 7 اکتوبر کے بعد اپنے اگلے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

حکومت اور اپوزیشن، خصوصاً پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوتے ہوتے ناکام ہوگئے،گورنر راج یا ایمرجنسی کسی صورت قابل قبول نہیں۔ اگر مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں تو دوبارہ مذاکرات ہونے چاہییں۔ پرامن احتجاج کرنا ہر سیاسی جماعت کا آئینی، جمہوری اور سیاسی حق ہے۔انسانی بنیادوں پر پی ٹی آئی کی تمام خواتین اور علیل بزرگ رہنماؤں کو فوری طور پر رہا کیا جائے، جبکہ حکومت عمران خان کو ہسپتال تک رسائی، ملاقاتوں سمیت پی ٹی آئی کے آئین و قانون کے مطابق تمام جائز مطالبات تسلیم کرے۔
پریس کانفرنس میں امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان،نائب امیر کراچی مسلم پرویزڈپٹی سکریٹری کراچی یونس بارائی،جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق،سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری، سینئر ڈپٹی سکریٹری اطلاعات صہیب احمد ودیگر بھی موجود تھے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ اسرائیل 7 اکتوبر کو ہر محاذ پر ناکام ہوچکا تھا، تاہم امریکہ کی مدد سے اس نے فلسطین پر دوبارہ بمباری شروع کی۔
انسانی حقوق کا چیمپئن بننے کا دعویٰ کرنے والا امریکہ اب تک کروڑوں ڈالرز سے اسرائیل کی مدد کرچکا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے اسرائیل کو ایسے خطرناک بم بھی فراہم کیے ہیں جو سابق امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی نہیں دیے تھے۔ نام نہاد ”پیس بورڈ“ کی کوئی کارکردگی نظر نہیں آرہی۔بین الاقوامی میڈیا کی تازہ رپورٹس کے مطابق امریکہ اسرائیل کو مزید تقریباً 2.8 ملین ڈالرز کے بم فراہم کرنے والا ہے۔

جنگ بندی کے باوجود اسرائیل اب تک 1500 فلسطینیوں کو شہید اور 5 ہزار کو زخمی کرچکا ہے، جبکہ رپورٹس کے مطابق عمارتوں کے ملبے کے ڈھیروں تلے اب بھی کم از کم 10 ہزار لاشیں موجود ہیں۔ حماس کی جدوجہد کے نتیجے میں پہلی مرتبہ مغربی ممالک میں فلسطین کے حق میں ایسی عوامی لہر پیدا ہوئی ہے کہ لوگ اپنی ہی حکومتوں کے خلاف آواز بلند کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکہ نے عراق اور افغانستان سمیت مختلف معاملات میں جھوٹ بول کر ان گنت انسانوں کا قتل عام کیا اور پوری دنیا میں سیکڑوں فوجی اڈے قائم کیے۔
آج ٹرمپ کے ساتھ تمام صہیونی طاقتیں کھڑی ہیں۔ جماعت اسلامی 7 اکتوبر کو ملک بھر میں اہل غزہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے غزہ مارچ منعقد کرے گی۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ حکومت کا پیٹرولیم کے حوالے سے ریلیف پیکیج اونٹ کے منہ میں زیرہ ہے، حکومت نے یہ پیکیج دے کر عوام پر کوئی احسان نہیں کیا۔ افسوس ہے کہ عوام کے اس اہم مسئلے پر جماعت اسلامی کے سوا کوئی سیاسی جماعت بات نہیں کررہی۔
جماعت اسلامی کی مسلسل جدوجہد اور دباؤ کے نتیجے میں حکومت کو یہ ریلیف پیکیج دینا پڑا۔انہوں نے کہا کہ حکومت بار بار اعلان کررہی ہے کہ پیکیج میں 70 لاکھ افراد کو شامل کیا گیا ہے، لیکن پاکستان میں ڈھائی کروڑ موٹر سائیکلیں اور 1000 اور 1200 سی سی تک کی 40 لاکھ سے زائد گاڑیاں موجود ہیں۔ حکومت نے صرف 800 سی سی تک کی گاڑیوں کو پیکیج میں شامل کیا ہے جبکہ تمام موٹر سائیکل سوار بھی اس سہولت سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔
اس طرح حکومت کی جانب سے دیا گیا ریلیف بھی عوام کی بڑی تعداد تک نہیں پہنچ رہا۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اگر حکومت کو یہ خدشہ ہے کہ سستا پیٹرول امیر لوگوں کو بھی مل جائے گا تو اس کا حل یہ ہے کہ حکومت امیر طبقے کے لیے الگ نظام بنائے اور بڑی گاڑیوں کے لیے پیٹرول کی قیمت دگنی کردی جائے۔ حکومت کو پیکیجز کا اعلان کرنے کے بجائے اپنی پالیسیوں کو درست کرنا اور پیٹرولیم لیوی کو یکسر ختم کرنا ہوگا۔

جماعت اسلامی نے حکومت پر اپنی آخری حجت بھی تمام کردی ہے۔ حکومت کو پیٹرولیم لیوی کے نام پر عائد بھتہ ٹیکس ختم کرنا ہوگا اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کرنا ہوں گی۔ آئی پی پیز کے حوالے سے بھی تمام حقائق قوم کے سامنے لائے جائیں اور بتایا جائے کہ باقی 73 آئی پی پیز کے ساتھ مذاکرات کیوں نہیں ہورہے۔ انہوں نے کہا کہ چند بینک مالکان اور اسٹیک ہولڈرز کو فائدہ پہنچانے کے لیے پاکستان کی پوری عوام کو تباہ و برباد کیا جارہا ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں میں آئی پی پیز سے وابستہ لوگ موجود ہیں۔ پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کی جدوجہد کسی ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ یہ براہِ راست عوام کا مسئلہ ہے۔

Exit mobile version