سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ انہوں نے بانی پی ٹی آئی کے حکم پر وزارت اعلیٰ چھوڑی تھی، اگر بانی کی جانب سے دوبارہ وزیراعلیٰ بننے کا حکم ملا تو وہ یہ ذمہ داری سنبھال سکتے ہیں۔
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ وفاقی حکومت پردباؤ بڑھے گا تو وہ مطالبات تسلیم کرے گی، حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنا فیصلہ سازوں کا کام ہے۔
انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کے حوالے سے پارٹی کی کوئی خاص تیاری نہیں تھی، جبکہ مارچ کی تاریخ تبدیل ہونے سے پارٹی کمزور ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں وزیراعلیٰ کی رٹ نہ ہونے کے باعث وزرا، اراکین اسمبلی اور پارٹی کارکنوں کو اٹھایا جارہا ہے۔
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ رکاوٹوں اور مزاحمت کے باوجود وہ احتجاج کے دوران تین مرتبہ اسلام آباد پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
انہوں نے اپنے دور حکومت اور احتجاجی سرگرمیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مشکل حالات کے باوجود کارکنوں کے ساتھ کھڑے رہے۔
سابق وزیراعلیٰ نے موجودہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے ملاقات کے حوالے سے کہا کہ ان سے خوشگوار ماحول میں بات چیت ہوئی۔ ہماری ایک ہی پارٹی ہے اور ہم پختون بھی ہیں، گھر آئے مہمان کی قدر کرتے ہیں۔
علی امین گنڈاپور نے مزید کہا کہ پارٹی کے اندراختلافات کو بڑھا چڑھا کرپیش نہیں کیا جانا چاہیے ان کے مطابق موجودہ سیاسی صورتحال میں پارٹی قیادت اورکارکنوں کے درمیان رابطہ برقرار رکھنا ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے معاملات اور سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے پارٹی قیادت کی ہدایات اہم ہیں اور وہ آئندہ بھی پارٹی فیصلوں کے مطابق اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔
