اب جب اقتدار جانے کا خوف آیا تو سیکیورٹی کے نام پر جو روزانہ کروڑوں روپے خرچ کر رہے ہیں، کیا یہ آئی ایم ایف کی رضامندی سے ہے؟ سابق وزیر اسد عمر کا سوال
سابق وزیر اسد عمر کا کہنا ہے کہ کیا حکومت اب جو سیکیورٹی کے نام پر روزانہ کروڑوں روپے خرچ کر رہی ہے یہ آئی ایم ایف کی رضامندی سے خرچ کررہے ہیں؟ ایکس پر اپنے ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ جب عوام کے ریلیف کی بات آتی ہے تو یہ کہتے ہیں آئی ایم ایف نہیں مانتا۔ جب اپنے اقتدار جانے کا خوف آیا تو یہ کروڑوں روزانہ جو سیکیورٹی کے نام پر خرچ کر رہے ہیں، یہ آئی ایم ایف کی رضامندی سے ہے؟ اسی طرح اسد عمر نے پی ٹی آئی کی جانب سے لانگ مارچ کی تاریخ تبدیل کرکے 4 اکتوبر کرنے پر کہا کہ بالکل ٹھیک فیصلہ۔
تھکا تھکا کے مارو۔ ساتھ ساتھ ڈائلاگ بھی کرو۔ اسی دباؤ میں یہ سنجیدہ بات کریں گے۔
اسی طرح ایوان وزیراعلیٰ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ لانگ مارچ کی مکمل تیاری ہے، لانگ مارچ کیلئے بڑی تعداد میں گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کا انتظام کر لیا گیا ہے، اگر کسی قسم کی مہم جوئی ہوئی تو 24 گھنٹوں کی کال پر عوام سڑکوں پر نکل آئیں گے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اپنی ممکنہ نااہلی کے حوالے بتایا کہ میں نااہلی کی صورت میں مزید خطرناک ہو جاؤں گا، لوگ سڑکوں پر نکل آئیں گے، حکومت برقرار نہیں رہ سکے گی، مجھے عہدے سے ہٹایا گیا یا نااہل کردیا گیا تو متبادل کا نام عمران خان خود طے کریں گے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کو مذاکرات کے لیے 7 دن کی حتمی مہلت دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا فیصلہ اٹل ہے اور اگر اس دوران حکومت نے کسی ایڈونچر کی کوشش کی تو ورکرز 24 گھنٹے کے اندر باہر نکلنے کے لیے مکمل تیار ہیں۔

Leave feedback about this