27 ستمبر لانگ مارچ سے نمٹنے کی خاطر ایک ہفتے کے انتظامات کیلئے 82 کروڑ روپے طلب کیے گئے تھے، احتجاج کی تاریخ آگے بڑھنے سے اب یہ اخراجات 1 ارب روپے سے تجاوز کر جائیں گے
پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے 27 ستمبر کا احتجاجی مظاہرہ اور ممکنہ لانگ مارچ معطل کیے جانے کے بعد وفاقی حکومت اور اسلام آباد پولیس کے سکیورٹی اخراجات دگنے ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جس سے قومی خزانے کو ایک ارب روپے سے زائد کا شدید معاشی دھچکا لگنے کا اندیشہ ہے۔انگریزی اخبار ڈان کی رپورٹ کے مطابق وفاقی دارالحکومت پولیس نے ابتداء میں 27 ستمبر کے احتجاج سے نمٹنے اور ایک ہفتے کے سکیورٹی انتظامات کے لیے 820 ملین یعنی 82 کروڑ روپے کی گرانٹ طلب کی تاہم احتجاج کی تاریخ آگے بڑھائے جانے کی وجہ سے اب یہ تمام اخراجات دوگنے ہو کر 1 ارب روپے سے تجاوز کر جائیں گے۔
بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد کو سیل کرنے کے لیے منگوائے گئے 1 ہزار 550 کنٹینرز کا روزانہ کا کرایہ 46.5 ملین یعنی ساڑھے 4 کروڑ روپے بنتا ہے، جو ایک ہفتے میں 325.5 ملین یعنی 32 کروڑ 55 لاکھ اور دو ہفتوں میں 651 ملین یعنی 65 کروڑ 10 لاکھ روپے تک جا پہنچے گا، آل پاکستان گڈز الائنس کے چیئرمین نثار حسین جعفری کا کہنا ہے کہ پولیس نے فی کنٹینر 30 ہزار روپے یومیہ کرایہ طے کیا لیکن احتجاج ملتوی ہونے کے بعد پولیس نے تاحال یہ فیصلہ نہیں کیا کہ کنٹینرز کو چھوڑا جائے یا تحویل میں رکھا جائے۔
معلوم ہوا ہے کہ اسلام آباد پولیس نے سندھ پولیس سے 2 ہزار اور پنجاب پولیس سے 16 ہزار اہلکاروں کی اضافی نفری طلب کی تھی، سندھ پولیس کی نفری اسلام آباد پہنچ چکی ہے جنہیں پولیس لائنز، فیصل مسجد اور جی 13 کمیونٹی سینٹر میں ٹھہرایا گیا ہے جہاں فی کس 600 روپے یومیہ کے حساب سے صرف ان کے کھانے پر روزانہ 1.2 ملین یعنی 12 لاکھ روپے خرچ ہو رہے ہیں، افسران کیلئے 13 ہوٹلوں میں 175 کمرے بک کروائے گئے جن کا یومیہ کرایہ 7 لاکھ 54 ہزار روپے سے زائد ہے، سکیورٹی فورسز کی نقل و حرکت کے لیے 70 کوسٹرز، 30 ڈبل کیبن اور درجنوں بسیں بھی ہائر کی گئی ہیں جن کا کرایہ لاکھوں میں ہے۔
آل پاکستان گڈز الائنس کے چیئرمین نثار حسین نے انکشاف کیا ہے کہ پنجاب اور اسلام آباد پولیس نے ڈرائیورز اور عملے سمیت کم از کم 2 ہزار 700 گڈز گاڑیاں زبردستی تحویل میں لے رکھی ہیں، تقریباً 400 گاڑیاں اور ان کا عملہ تاحال لاپتہ ہے، باقی عملے کو مختلف تھانوں میں حبسِ بے جا میں رکھ کر ان کے موبائل فون، گاڑیوں کے کاغذات اور چابیاں بھی ضبط کرلی گئی ہیں، جن 2 ہزار 700 گاڑیوں کو قبضے میں لیا گیا ہے ان میں سے 450 سے زائد گاڑیوں میں ادویات، غذائی اجناس اور کیمیکلز جیسی حساس اور ضروری اشیاء ہیں، جس سے ملک میں اشیائے ضروریہ کی شدید قلت کا خدشہ پیدا ہوگیا۔
