وزیراطلاعات خیبرپختونخواہ شفیع جان کا کہنا ہے کہ ہم اسلام آباد میں دھاوا بولنے یا فتح کرنے نہیں آرہے، ہم دو پیروں اور ہاتھوں کے ساتھ آئیں گے، ہمارے پاس کوئی چیز نہیں ہوگی، اگر حکومت کی تیاری پوری ہے تو ہماری ان سے زیادہ تیاری ہے، ہم حکومت سے وَنس فار آل چھٹکارا چاہتے ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں عملی طور قانون ختم ہوچکا ہے، جس طرح ہمارے وزراء کے ساتھ ہوا، جس طرح علیمہ خان ، نورین ، عظمیٰ بی بی ، شکیل کے ساتھ ہوا، ان کو اٹھایا گیا، ملک میں قانون ختم ہوچکا، آئین معطل ہے۔ پی ٹی آئی کی 27ستمبر کی کال حتمی ہے۔ پاکستان میں احتجاج کا آئینی ہے، یہ کس قانون کے تحت لوگوں کو اٹھا رہے ہیں، ہم اسلام آباد میں دھاوا بولنے نہیں آرہے، حکومت خندقین کھود رہی ہے، کنٹینرز کھڑے کئے جارہے ہیں۔
ہم اسلام آباد میں دھاوا بولنے یا فتح کرنے نہیں آرہے، ہم دو پیروں اور ہاتھوں کے ساتھ آئیں گے، ہمارے پاس کوئی چیز نہیں ہوگی، حکومت کی تیاری پوری ہے تو ہماری تیاری اُن سے زیادہ ہے، پی ٹی آئی اس بار ونس فار آل چاہتے ہیں، ہم بھی حکومت سے ونس فار آل چھٹکارا چاہتے ہیں، تیاری پوری ہے۔
اسی طرح| شفیع جان نے ایکس پر اپنے ردعمل میں انہوں نے کہا کہ محسن نقوی شہداء کے جنازوں کو سیاسی بیان بازی کا موضوع نہ بنائیں، شہداء کے جنازوں کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے استعمال کرنا نہایت قابل افسوس ہے۔ وفاقی وزراء کی مسلسل پریس کانفرنسز سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے شدید خوفزدہ ہیں،وفاقی وزیر جب قانون کی بات کرتے ہیں تو انہیں آئین میں دیے گئے عوام کے بنیادی حقوق بھی یاد رکھنے چاہئیں۔
محسن نقوی کہتے ہیں پی ٹی آئی سے نمٹنے کا مستقل لائحہ عمل بنائیں گے، ہم پوچھنا چاہتے ہیں یہی لائحہ عمل معاشی استحکام کے لیے کیوں نہیں بنایا گیا؟ محسن نقوی شاید بھول گئے ہیں کہ معیشت کو نقصان پی ٹی آئی کی نہیں بلکہ ان کی نام نہاد تجربہ کار معاشی ٹیم کی وجہ سے پہنچ رہا ہے، وفاقی حکومت کی دھمکیوں سے ہرگز خوفزدہ نہیں ہوں گے،فارم 47 کی حکومت یاد رکھے کہ پاکستان تحریک انصاف طویل عرصے سے حکومتی ظلم و جبر کا سامنا کر رہی ہے۔
اگر وفاقی حکومت کو لانگ مارچ کا خوف نہیں تو اسلام آباد کو ابھی سے "کنٹینر سٹی” کیوں بنا دیا گیا؟ پاکستان تحریک انصاف اپنے آئینی اور جمہوری حقوق سے کبھی دستبردار نہیں ہوگی،27 ستمبر کا احتجاج ہمارا آئینی حق ہے، اسے دھمکیوں سے نہیں روکا جا سکتا۔ شفیع جان نے مزید ایک ٹویٹ میں کہا کہ صوبائی وزیر فضل شکور خان کو پشاور سے نا معلوم افراد کی جانب سے اٹھایا جانا آئین، قانون، جمہوریت اور عوامی مینڈیٹ پر براہ راست حملہ ہے۔
