اگر وفاقی حکومت کو لانگ مارچ کا خوف نہیں تو اسلام آباد کو ابھی سے ’’ کنٹینر سٹی ‘‘ کیوں بنا دیا گیا؟ شفیع جان پاکستان Roze News
پاکستان تازہ ترین

اگر وفاقی حکومت کو لانگ مارچ کا خوف نہیں تو اسلام آباد کو ابھی سے ’’ کنٹینر سٹی ‘‘ کیوں بنا دیا گیا؟ شفیع جان

اگر وفاقی حکومت کو لانگ مارچ کا خوف نہیں تو اسلام آباد کو ابھی سے ’’ کنٹینر سٹی ‘‘ کیوں بنا دیا گیا؟ شفیع جان

اگر وفاقی حکومت کو لانگ مارچ کا خوف نہیں تو اسلام آباد کو ابھی سے ’’ کنٹینر سٹی ‘‘ کیوں بنا دیا گیا؟ شفیع جان

محسن نقوی کہتے ہیں پی ٹی آئی سے نمٹنے کا مستقل لائحہ عمل بنائیں گے، ہم پوچھنا چاہتے ہیں ایسا لائحہ عمل معاشی استحکام کیلئے کیوں نہیں بنایا گیا؟ ہم دھمکیوں سے ہرگز خوفزدہ نہیں ہوں گے، وزیراطلاعات خیبرپختونخواہ کا سوال

وزیراطلاعات خیبرپختونخواہ شفیع جان کا کہنا ہے کہ وفاقی وزراء کی مسلسل پریس کانفرنسوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پی ٹی آئی لانگ مارچ سے شدید خوفزدہ ہیں، محسن نقوی کہتے ہیں پی ٹی آئی سے نمٹنے کا مستقل لائحہ عمل بنائیں گے۔ ایکس پر اپنے ردعمل میں انہوں نے کہا کہ محسن نقوی شہداء کے جنازوں کو سیاسی بیان بازی کا موضوع نہ بنائیں، شہداء کے جنازوں کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے استعمال کرنا نہایت قابل افسوس ہے،وفاقی وزراء کی مسلسل پریس کانفرنسز سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے شدید خوفزدہ ہیں،وفاقی وزیر جب قانون کی بات کرتے ہیں تو انہیں آئین میں دیے گئے عوام کے بنیادی حقوق بھی یاد رکھنے چاہئیں۔

محسن نقوی کہتے ہیں پی ٹی آئی سے نمٹنے کا مستقل لائحہ عمل بنائیں گے، ہم پوچھنا چاہتے ہیں یہی لائحہ عمل معاشی استحکام کے لیے کیوں نہیں بنایا گیا؟

محسن نقوی شاید بھول گئے ہیں کہ معیشت کو نقصان پی ٹی آئی کی نہیں بلکہ ان کی نام نہاد تجربہ کار معاشی ٹیم کی وجہ سے پہنچ رہا ہے، وفاقی حکومت کی دھمکیوں سے ہرگز خوفزدہ نہیں ہوں گے،فارم 47 کی حکومت یاد رکھے کہ پاکستان تحریک انصاف طویل عرصے سے حکومتی ظلم و جبر کا سامنا کر رہی ہے

اگر وفاقی حکومت کو لانگ مارچ کا خوف نہیں تو اسلام آباد کو ابھی سے "کنٹینر سٹی” کیوں بنا دیا گیا؟ پاکستان تحریک انصاف اپنے آئینی اور جمہوری حقوق سے کبھی دستبردار نہیں ہوگی،27 ستمبر کا احتجاج ہمارا آئینی حق ہے، اسے دھمکیوں سے نہیں روکا جا سکتا۔ شفیع جان نے مزید ایک ٹویٹ میں کہا کہ صوبائی وزیر فضل شکور خان کو پشاور سے نا معلوم افراد کی جانب سے اٹھایا جانا آئین، قانون، جمہوریت اور عوامی مینڈیٹ پر براہ راست حملہ ہے۔

عوام کے منتخب نمائندوں کو اس طرح اٹھایا جانا کس قانون کی رو سے جائز ہے؟ فضل شکور خان کو غائب کر کے آخر کیا ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے؟ خیبر پختونخوا کے عوام کے مینڈیٹ کی تذلیل بند کی جائے۔ اس طرح کے ہتھکنڈوں سے مرعوب نہیں ہوں گے، پرامن سیاسی جدوجہد کا حق چھیننا فسطائیت کی انتہا ہے، لیکن ہم آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر اپنے حقوق کی جنگ لڑتے رہیں گے۔

Exit mobile version