راولپنڈی کے گنجان آباد علاقے اڈیالہ روڈ پر منور کالونی کے قریب پنجاب حکومت کی گرین بس سروس کی موٹر سائیکل کو ٹکر کے نتیجے میں والد کے ساتھ سکول سے گھر لوٹتی ہوئی 9 سالہ عائشہ موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئی۔ اطلاعات کے مطابق کمسن عائشہ اپنے والد کے ہمراہ موٹرسائیکل پر سکول سے چھٹی کے بعد گھر جا رہی تھی کہ تیز رفتار گرین بس نے ان کی موٹر سائیکل کو شدید ٹکر مار دی، بس کی ٹکر کے باعث بچی موٹر سائیکل سے نیچے جا گری اور بس کا پہیہ سر پر سے گزرنے کے باعث وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگئی۔
بتایا جا رہا ہے کہ حادثے کا سبب بننے والی بس کا ڈرائیور گاڑی چھوڑ کر موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا جب کہ حادثے کے بعد نورِ چشم کی ڈیڈ باڈی سے لپٹ کر والد کے دل دہلا دینے والے بین اور رو رو کر بیٹی کو پکارنے کے المناک منظر نے ہر آنکھ اشکبار کردی، اس حادثے کی خبر پھیلتے ہی علاقے میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور شہریوں کی بڑی تعداد اڈیالہ روڈ پر نکل آئی۔
معلوم ہوا ہے کہ مشتعل مظاہرین نے پنجاب گرین بسوں پر شدید پتھراؤ کیا اور حادثہ کرنے والی بس کو آگ لگانے کی کوشش کی، واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری نے موقع پر پہنچ کر علاقے کو گھیراؤ میں لیا اور احتجاج کرنے والے متعدد مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔
شہریوں نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت کی گرین بس سروس شہریوں کو سفری سہولت تو فراہم کر رہی ہے لیکن گنجان آباد اور تنگ اندرونِ شہر کی سڑکوں پر یہ بسیں مسلسل ٹریفک کا نظام درہم برہم کررہی ہیں اور اب ہلاکت خیز حادثات کا سبب بن رہی ہیں، ان بسوں کے لیے فوری طور پر مخصوص روٹس اور الگ لینز کا بندوبست کیا جائے تاکہ مستقبل میں کسی معصوم کی جان نہ جائے
