انسدادِ دہشت گردی عدالت اسلام آباد کے جج طاہر عباس سپرا نے تھانہ مارگلہ میں درج 26 نومبر کے احتجاج کیس کی سماعت کی
اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے 26 نومبر احتجاج کے مقدمے میں وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخواہ سہیل آفریدی، رکن صوبائی اسمبلی عبدالغنی آفریدی، رکنِ قومی اسمبلی جنید اکبر اور دیگر رہنماؤں کے وارنٹِ گرفتاری جاری کردیئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق انسدادِ دہشت گردی عدالت اسلام آباد کے جج طاہر عباس سپرا نے تھانہ مارگلہ میں درج 26 نومبر کے احتجاجی کیس کی سماعت کی، عدالت نے ملزمان کی جانب سے دائر کی گئی حاضری سے استثنیٰ کی تمام تر درخواستیں مسترد کر دیں۔
بتایا گیا ہے کہ عدالت نے عدم پیشی پر وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخواہ سہیل آفریدی اور جنید اکبر سمیت آج پیش نہ ہونے والے تمام نامزد ملزمان کے وارنٹِ گرفتاری برقرار رکھتے ہوئے وارنٹ کے فوری اجراء کا حکم دیا، اس کے علاوہ عدالت نے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی، ایم پی اے ڈاکٹر امجد خان اور دیگر کے خلاف اشتہاری قرار دینے کی قانونی کارروائی جاری رکھنے کا فیصلہ سنایا۔
معلوم ہوا ہے کہ سماعت کے دوران مزید 4 سرکاری گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے گئے، جس کے بعد کیس میں اب تک مجموعی طور پر 42 گواہان کے بیانات قلمبند ہو چکے ہیں، کیس میں وزیرِ اعلیٰ کے پی کے سمیت مجموعی طور پر 15 ہزار سے زائد نامعلوم افراد ایف آئی آر میں نامزد ہیں، فی الوقت 8 بنیادی ملزمان کی حد تک باقاعدہ ٹرائل جاری ہے، عدالت نے اسلام آباد پولیس کو ہدایت کی کہ وزیرِاعلیٰ سہیل آفریدی اور دیگر نامزد ملزمان کا حتمی چالان جلد از جلد عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے اور اس کے بعد کیس کی مزید سماعت ملتوی کردی گئی۔
