گنج پن سے متاثر افراد کے لیے ایک نئی تحقیقسامنے آگئی ۔تحقیق میں ایک ایسی دوا کے حوصلہ افزا نتائج رپورٹ ہوئے ہیں جو بنیادی طور پر جوڑوں کی بعض بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ گنج پن کا علاج جس سے ممکن ہوا ہے۔
شائع تحقیق کے مطابق ایلوپیشیا ایریاٹا کے مریضوں میں upadacitinib نامی دوا کے استعمال سے بالوں کی دوبارہ نشوونما میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ایلوپیشیا ایریاٹا ایک خودکار مدافعتی بیماری ہے جس میں جسم کا مدافعتی نظام غلطی سے بالوں کی جڑوں کو متاثر کرنے لگتا ہے۔ اس کے نتیجے میں سر یا جسم کے دوسرے حصوں سے بال عموماً گول شکل میں جھڑتے ہیں اور بعض افراد میں بالوں کا بڑے پیمانے پر نقصان بھی ہوسکتا ہے۔
تحقیق میں شمالی امریکا، یورپ اور چین سے ایسے مریضوں کو شامل کیا گیا جن کے سر کے بڑے حصے سے بال جھڑ چکے تھے۔ دو الگ کلینیکل ٹرائلز کے دوران شرکا کو مختلف گروپس میں تقسیم کیا گیا، جنہیں روزانہ 15 ملی گرام، 30 ملی گرام upadacitinib یا پلیسبو دیا گیا۔
24 ہفتوں تک جاری رہنے والے جائزے میں دوا لینے والے مریضوں میں بالوں کی نشوونما میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔ تحقیق کے مطابق بعض مریضوں میں بال تقریباً مکمل طور پر واپس آنے کے نتائج بھی سامنے آئے۔
محققین کا کہنا ہے کہ upadacitinib مدافعتی نظام کے ان سگنلز کو روکنے میں مدد دیتی ہے جو جسم میں سوزش پیدا کرتے اور بالوں کی جڑوں پر مدافعتی حملے کا سبب بنتے ہیں۔ یہی عمل بالوں کی دوبارہ نشوونما میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
تاہم ماہرین نے واضح کیا ہے کہ نتائج حوصلہ افزا ہونے کے باوجود مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ ابھی یہ جاننا باقی ہے کہ دوا سے حاصل ہونے والی بالوں کی نشوونما طویل عرصے تک برقرار رہتی ہے یا نہیں اور طویل مدت تک اس کے استعمال سے کون سے ممکنہ مضر اثرات سامنے آسکتے ہیں۔
محققین کے مطابق موجودہ نتائج ابتدائی نوعیت کے ہیں، تاہم ایلوپیشیا ایریاٹا سے متاثر افراد کے لیے یہ تحقیق مستقبل کے علاج کے حوالے سے ایک اہم امید ضرور پیدا کرتی ہے۔
یہ بھی واضح رہے کہ ہر قسم کے گنج پن کی وجہ ایلوپیشیا ایریاٹا نہیں ہوتی، اس لیے کسی بھی دوا کا استعمال ماہر ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر نہیں کرنا چاہیے۔

Leave feedback about this