ایک شناختی کارڈ پر سمیں کتنی مل سکتی ہیں؟ پی ٹی اے نے بتا دیا،شہری یہ خبر ضرور پڑھ لیں پھر نہ کہنا خبر نہ ہوئی پاکستان Roze News
پاکستان تازہ ترین سائنس و ٹیکنالوجی معیشت و تجارت

ایک شناختی کارڈ پر سمیں کتنی مل سکتی ہیں؟ پی ٹی اے نے بتا دیا،شہری یہ خبر ضرور پڑھ لیں پھر نہ کہنا خبر نہ ہوئی

ایک شناختی کارڈ پر سمیں کتنی مل سکتی ہیں؟ پی ٹی اے نے بتا دیا،شہری یہ خبر ضرور پڑھ لیں پھر نہ کہنا خبر نہ ہوئی

ایک شناختی کارڈ پر سمیں کتنی مل سکتی ہیں؟ پی ٹی اے نے بتا دیا،شہری یہ خبر ضرور پڑھ لیں پھر نہ کہنا خبر نہ ہوئی

ایک شناختی کارڈ پر سمیں رکھنے کے حوالے سے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین نے اہم تفصیلات قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں بتا دیں۔

اجلاس کے دوران چیئرمین پی ٹی اے نے بتایا کہ ایک شناختی کارڈ پر زیادہ سے زیادہ 5 سمیں رکھنے کی اجازت ہے، اس کے بعد اسی شناختی کارڈ پر چھٹی سم حاصل نہیں کی جاسکتی۔

چیئرمین پی ٹی اے کے مطابق سائبر کرائم سے متعلق کارروائیوں کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر 125 چھاپے مارے گئے۔ ان کارروائیوں میں 25 ہزار سمیں برآمد ہوئیں جبکہ 171 افراد کو گرفتار کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ڈھائی سے تین سال کے دوران تقریباً 18 لاکھ سمیں بلاک کی جاچکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بائیومیٹرک ریکارڈ کے حوالے سے سکیورٹی مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے اور اس مقصد کے لیے نادرا کے ساتھ مل کر نظام کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔

چیئرمین پی ٹی اے نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ مختلف کارروائیوں کے دوران تقریباً 6 لاکھ افراد کے بائیومیٹرک ریکارڈ بھی برآمد ہوئے۔ ان کے مطابق بائیومیٹرک معلومات کا ریکارڈ جہاں موجود ہوتا ہے، بعض اوقات وہیں سے معلومات کے اخراج کا مسئلہ سامنے آتا ہے، جس کے لیے سکیورٹی نظام کو مزید بہتر بنانا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ موبائل فون کمپنیوں کو بھی اس عمل میں شامل کیا گیا ہے تاکہ غیر قانونی سموں کے استعمال کو روکنے کے اقدامات مؤثر بنائے جاسکیں۔

اجلاس میں خواجہ اظہار الحسن نے غیر قانونی سموں کے استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان سموں کو دہشت گردی اور بھتہ خوری سمیت جرائم میں استعمال کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بیرون ملک کی سموں کی مقامی سطح پر تشہیر اور فروخت کا معاملہ بھی اٹھایا۔

وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ ملک میں بعض افراد اپنے بینک اکاؤنٹس بھی دوسروں کو استعمال کے لیے دے دیتے ہیں، حالانکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ ان اکاؤنٹس میں مشکوک یا فراڈ کی رقم منتقل ہوسکتی ہے۔

اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پی ٹی اے، ٹیلی کام کمپنیوں اور اسٹیٹ بینک کو سکیورٹی کے مزید مؤثر نظام متعارف کرانے کی ضرورت ہے تاکہ غیر قانونی سموں اور مالی فراڈ سمیت دیگر جرائم کی روک تھام ممکن بنائی جاسکے۔

 

Exit mobile version