راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی انتظامیہ پر اٹھتے سنگین سوالات
راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی کے گرلز ہاسٹلز 3، 4اور 5کی طالبات اس وقت شدید نفسیاتی اور جسمانی کرب کا شکار ہیں۔ ہر طالبہ سے ہاسٹل اور یونیورسٹی مد میں 60,000 روپے سے زائد فیسیں اور فنڈز وصول کیے جاتے ہیں، لیکن اس کے بدلے میں انہیں پینے کا صاف پانی اور بجلی جیسی بنیادی انسانی ضروریات بھی میسر نہیں۔طالبات کا قصور کیا ہے؟میڈیکل کی تعلیم کا شدید دباؤ: دن رات محنت کر کے میرٹ پر آنے والی طالبات کو پڑھائی پر توجہ دینے کے بجائے پانی جمع کرنے اور واش روم کے لیے تگ و دو کرنی پڑ رہی ہے۔صحت کے سنگین خطرات: گزشتہ 10 دنوں سے مٹی ملا گندا پانی پینے اور واش رومز میں استعمال کرنے سے طالبات میں بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ہے۔انسانی تذلیل: 48 گھنٹوں سے پانی نہ ہونے کی وجہ سے طالبات بالٹیوں میں بارش کا پانی جمع کر کے اپنا منہ دھونے اور وضو کرنے پر مجبور ہیں۔فیسوں کے فنڈز آخر جا کہاں رہے ہیں؟جب طالبات اور ہاسٹل وارڈن نے انتظامیہ کے سامنے آواز اٹھائی تو مؤقف اپنایا گیا کہ "فنڈز نہیں ہیں”۔ اس پر طلبہ اور ان کے والدین کا شدید احتجاج ہے:اگر ہر طالبہ سے بھاری فیسیں لی جاتی ہیں تو وہ رقم ہاسٹل کی بنیادی نگہداشت اور پانی/بجلی کے نظام پر کیوں نہیں خرچ ہوتی؟نئی عمارتوں اور دیگر پروژیکٹس کے لیے کروڑوں روپے کے فنڈز موجود ہیں، لیکن لڑکیوں کے ہاسٹل میں بورنگ اور پائپ لائن کی درستگی کے لیے رقم کیوں نہیں ہے؟سابق VC ڈاکٹر محمد عمر کے دور میں کروڑوں کے سولر پینلز لگائے گئے، لیکن آج 10، 10 بار بجلی جانے پر کوئی بیک اپ کیوں نہیں چلتا؟موجودہ نگران VC پروفیسر ڈاکٹر خرم اور حکومتِ پنجاب سے التماس ہے کہ طالبات کے اس قصور اور پریشانی کا فوری مداوا کیا جائے، ہاسٹل میں پانی کی فراہمی بحال کی جائے اور ان کے ہاسٹل فنڈز کے شفاف استعمال کو یقینی بنایا جائے۔
