پشاور پولیس کی ایک ٹیم پر، جو بحرین سے انتہائی مطلوب ملزم کو پشاور منتقل کررہی تھی، نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کردیا، جس کے نتیجے میں پولیس کے زیرِ حراست مطلوب ملزم ہلاک جبکہ 2 ایس ایچ اوز زخمی ہو گئے۔
سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید نے فائرنگ کے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس کی خصوصی ٹیم بدنام زمانہ اشتہاری مجرم ممتاز عرف ممتازے کو اسلام آباد ایئرپورٹ سے پشاور لے کر آرہی تھی کہ پشاور کے تھانہ شاہ پور کی حدود میں نادرن بائی پاس پر پولیس ٹیم پر حملہ ہوا۔
پشاور پولیس کی ایک ٹیم پر، جو بحرین سے انتہائی مطلوب ملزم کو پشاور منتقل کررہی تھی، نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کردیا، جس کے نتیجے میں پولیس کے زیرِ حراست مطلوب ملزم ہلاک جبکہ 2 ایس ایچ اوز زخمی ہو گئے۔
سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید نے فائرنگ کے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس کی خصوصی ٹیم بدنام زمانہ اشتہاری مجرم ممتاز عرف ممتازے کو اسلام آباد ایئرپورٹ سے پشاور لے کر آرہی تھی کہ پشاور کے تھانہ شاہ پور کی حدود میں نادرن بائی پاس پر پولیس ٹیم پر حملہ ہوا۔
سی سی پی او کے مطابق حملہ آوروں کی فائرنگ اور ہینڈ گرنیڈ حملے کے نتیجے میں 2 ایس ایچ اوز زخمی ہوئے، جبکہ زیرِ حراست اشتہاری مجرم ممتاز بھی شدید زخمی ہو گیا، جو اسپتال لے جاتے ہوئے راستے میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہوگیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پولیس کی جوابی کارروائی میں 2 حملہ آور بھی ہلاک ہوگئے۔
پولیس پر حملے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا۔
پولیس کے مطابق ممتاز پشاور کے نواحی علاقے داؤدزئی کا رہائشی تھا اور ممتاز عرف ممتازے کے نام سے مشہور تھا۔
پشاور پولیس کے مطابق ممتاز 49 مختلف مقدمات میں خیبرپختونخوا پولیس کو مطلوب تھا، جن میں قتل، اقدامِ قتل، ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، اغوا، راہزنی، غیر قانونی اسلحہ رکھنے، پولیس پر حملوں، شہریوں کی جائیدادوں پر مبینہ قبضے اور عوام میں خوف و ہراس پھیلانے سمیت دیگر سنگین مقدمات شامل تھے۔
پولیس کے مطابق پشاور پولیس کی جانب سے قبضہ مافیا، بھتہ خوری اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کے خلاف گزشتہ کچھ عرصے سے کارروائیوں میں تیزی آئی ہے۔ ان مقدمات میں مطلوب کئی ملزمان کی گرفتاری کے بجائے پولیس مقابلوں میں ہلاکتیں زیادہ ہوئی ہیں اور حالیہ عرصے میں پشاور کے کئی اہم اشتہاری ملزمان ہلاک کیے گئے ہیں۔
پولیس نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل آدم عرف آدمے نامی ملزم کو اسلام آباد کے قریب ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں پشاور پولیس کے ساتھ مبینہ مقابلے میں ہلاک کیا گیا تھا، جس کے بعد اشتہاری ملزمان میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔
پولیس کے مطابق ممتاز عرف ممتازے بھی آدم کی ہلاکت کے بعد پولیس کارروائی کے خوف سے بحرین فرار ہوگیا تھا۔ ممتاز کی والدہ نے پشاور ہائیکورٹ میں وکیل کے ذریعے درخواست دائر کی تھی، جس میں خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ پولیس ممتاز کو جعلی مقابلے میں ہلاک کرسکتی ہے۔
ملزم ممتاز عرف ممتازے بحرین میں موجود تھا اور اسے انٹرپول کے ذریعے خیبرپختونخوا پولیس واپس لارہی تھی۔ ملزم کے وکیل کے مطابق عدالت پہلے ہی سی سی پی او پشاور کو ہدایت دے چکی تھی کہ ممتاز کو بحفاظت عدالت میں پیش کرنے کو یقینی بنایا جائے اور دورانِ تفتیش بھی اس کی حفاظت یقینی بنائی جائے۔
ملزم ممتاز نے اپنے وکیل کے نام ایک آڈیو پیغام بھی بھیجا تھا، جو ایک منٹ 33 سیکنڈ پر مشتمل ہے۔ آڈیو پیغام میں ممتاز بتا رہا تھا کہ پشاور پولیس کے 2 ڈی ایس پیز اسے لینے بحرین ایئرپورٹ پہنچے ہیں اور بحرین کے حکام اسے پولیس کے حوالے کررہے ہیں۔
ممتاز نے آڈیو پیغام میں بتایا کہ اس کے ساتھی اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ پولیس سے اسے آزاد کرا سکیں۔ اس نے آڈیو پیغام میں پولیس مقابلے کا خدشہ بھی ظاہر کیا اور کہا کہ اگر اسے کچھ ہوا تو یہ پیغام اس کے وکیل اور ہائیکورٹ کے جج کو سنایا جائے۔

Leave feedback about this