وہ چیخیں آج بھی کانوں میں گونجتی ہیں!کسی ایوارڈ کی خواہش نہیں بچوں کو بچانا فرض تھا،نرس کے جذبات نے ہر آنکھ اشکبار کردی
پمز ہسپتال آتشزدگی واقعے میں بچے کی جان بچانے والی نرس رضیہ نورین کا کہنا ہے کہ مجھ سے سویا نہیں جاتا، وہ بچے مجھے سونے نہیں دیتے، بہت کوشش کی کہ باقی بچوں کو بھی بچا سکوں ۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں اس قابل نہیں ہوں میں نے بہت کوشش کی کہ باقی بچوں کو بھی بچا سکوں، آگ اتنی تیز تھی کہ میں باقی بچوں کو نہیں بچا سکی، میں وزیراعظم اور باقی سب کی بہت مشکور ہوں کہ مجھے اس قابل سمجھا۔
میں نے اپنی خدمات سرانجام دی ہیں۔ میں نے کسی ایوارڈ کیلئے یہ سب نہیں کیا، میرے لئے بچوں کی جان سب سے عزیز تھی، بچوں میں کام کرنا اور بچوں کے ساتھ میرا لگاؤ تھا۔ میں باقی بچوں کو بھی بچانا چاہتی تھی لیکن باقی بچوں کو میں نہیں بچا سکی جن کیلئے میں آج بھی پریشان ہوں۔
مجھ سے سویا نہیں جاتا،وہ بچے مجھے سونے نہیں دیتے،بہت کوشش کی کے باقی بچوں کو بھی بچالوں،لیکن آگ تیز تھی، باقی بچوں کو نہیں بچا سکی،میں نے کوئی احسان نہیں کیا، اپنی ڈیوٹی کی۔
یاد رہے نرس رضیہ نورین کیلئے وزیراعظم نے ایک کروڑ روپے انعام اور ستارہ خدمت دینے کی منظوری دی ہے۔ اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم شہبازشریف کی زیر صدارت پمز آتشزدگی واقعے پر لاہور میں اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا۔ اجلاس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف کو تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ پیش کی گئی۔ وزیراعظم نے کمیٹی کی نشاندہی پر 8 لوگوں کو فوری طور پر معطل کر کے ان کے خلاف فوری کارروائی کی منظوری دے دی۔
وزیراعظم نے محکمانہ کے ساتھ ساتھ فوجداری قوانین کے تحت بلا امتیاز فوجداری کارروائی کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے سکیورٹی پر مامور کمپنی اور اس کے عہدیداران کے خلاف کارروائی کی بھی منظوری دے دی۔ وزیراعظم نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر بچے کو بچانے والی نرس کیلئے ستارہِ خدمت دینے کی منظوری دی۔ وارڈ میں موجود ایک نرس اور خاتون گارڈ کو او ایس ڈی بنا کر مزید تحقیقات کی ہدایت بھی کی گئی۔
وزیراعظم نے ڈاکٹر محمد سلمان، سی ای او این آئی ایچ کو پمز کا ایکٹنگ ایگزیکٹو ڈائریکٹر تعینات کرنے کی ہدایت بھی کی۔ جن لوگوں کو عہدوں سے ہٹایا گیا ہے ان کی جگہ نئے لوگوں کی فوری اور یکمشت تعیناتی کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ فوری پبلک کرنے کی ہدایت کردی، تحقیقاتی رپورٹ کچھ ہی دیر میں وزارتِ قومی صحت کی ویب سائٹ پر آویزاں کر دی جائے گی۔
وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ مجرمانہ غفلت کے مرتکب لوگ کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔ واقعے کے ذمہ داران کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔ معصوم بچوں کی موت ایک ایسا اندوہناک واقعہ ہے جس پر پوری قوم افسردہ ہے۔ مجھ سمیت پوری قوم کی ہمدردیاں جاں بحق ہونے والے بچوں کے والدین کے ساتھ ہیں۔ واقعے کے ذمہ داران کو مثالی سزا دلوائی جائے۔
