پمز اسپتال کی نرسری میں خوفناک آگ لگنے سے 15 نومولود جاں بحق ابتدائی معلومات کے مطابق آگ ایئرکنڈیشنر کے کمپریسر میں دھماکے کے باعث بھڑکی، وزیر اعظم کا واقعے کی تحقیقات کا حکم
پمز اسپتال کی نرسری میں خوفناک آگ لگنے سے 15 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے، اسپتال حکام نے تصدیق کردی۔ ریسکیو حکام کے مطابق آگ پر قابو پالیا گیا ہے جبکہ کولنگ کا عمل جاری ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق آگ ایئرکنڈیشنر کے کمپریسر میں دھماکے کے باعث بھڑکی۔
اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ واقعے کے وقت نرسری میں 16 بچے موجود تھے، تاہم ایک لیڈی ڈاکٹر صرف ایک بچے کو بچانے میں کامیاب ہوئیں جبکہ 15 بچے جان کی بازی ہار گئے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق آگ ایم سی ایچ وارڈ کی تیسری منزل پر لگی، اطلاع ملتے ہی ریسکیو اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ امدادی کارروائیوں میں فائر بریگیڈ کی 6 گاڑیوں اور 4 ایمبولینسز نے حصہ لیا، جبکہ بیشتر بچے شدید جھلسنے کے باعث جاں بحق ہوئے۔
بعد ازاں انتظامیہ کی جانب سے بتایا گیا کہ آگ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی ہے، تاہم تحقیقات کے بعد اصل وجوہات سامنے آئیں گی، واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔
ترجمان پمز اسپتال کے مطابق تمام بچوں کی میتیں لواحقین کے حوالے کر دیں گئی ہیں۔
وزیر اعظم اور صدر مملکت کی حکام کو فوری تحقیقات کی ہدایت
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پمز اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے اندوہناک واقعہ پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسکا نوٹس لے لیا اور حکام کو فوری تحقیقات کی ہدایات دی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ بچوں کے ساتھ ایسی صورتحال ناقابلِ تلافی ہے۔ واقعہ کے محرکات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے اور ذمہ دران کا تعین کیا جاۓ اور سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
شہباز شریف نے معصوم بچوں کے لواحقین سے دلی اظہار تعزیت کیا۔ انہون نے کہا کہ اس اندوہ ناک واقعے پر دل رنجیدہ ہے
والدین کے اس دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے پمز اسپتال اسلام آباد میں پیش آنے والے آتشزدگی کے افسوسناک واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
صدرِ مملکت نے کہا کہ یہ المناک اموات انتہائی دلخراش اور ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ غمزدہ خاندانوں کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں، صدر آصف علی زرداری نے واقعے کی شفاف تحقیقات پر زور دیتے ہوئے ہدایت کی کہ ذمہ داروں کا تعین کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
صدرِ مملکت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ملک بھر کے اسپتالوں میں مریضوں، خصوصاً نومولود بچوں کی حفاظت کے لیے مؤثر فائر سیفٹی سسٹم اور ہنگامی انتظامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔
وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے پمز نرسری میں آتشزدگی سے نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے، انہوں نے کہا کہ بچوں کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں اے سی بلاسٹ ہونے کے باعث آگ بھڑک اٹھی، وارڈ میں آکسیجن کی موجودگی کے باعث آگ نے شدت اختیار کی جس کے نتیجے میں 14 معصوم بچوں کی اموات ہوئیں ہیں۔
وزیر صحت کے مطابق واقعے کی وجوہات جاننے اور حقائق سامنے لانے کے لیے متعلقہ انتظامیہ اور انفورسمنٹ ایجنسیز موقع پر پہنچ چکی ہیں، سیکرٹری صحت سمیت وزارتِ صحت کے افسران پمز میں موجود ہیں، معصوم نومولود بچوں کی جانوں کا ضیاع ایک انتہائی دلخراش سانحہ ہے، غم کی اس گھڑی میں حکومت اور وزارتِ صحت متاثرہ خاندانوں کے دکھ میں برابر کی شریک ہے، اس ناقابلِ تلافی نقصان پر متاثرہ خاندانوں کے غم اور دکھ کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔
گورنر خیبرپختونخوا، وفاقی وزیر داخلہ و دیگر کا اظہار افسوس
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر مواصلات علیم خان نے بھی پمز اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی سے بچوں کے جاں بحق ہونے پر افسوس کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ معصوم نومولود بچوں کا جاں بحق ہونا انتہائی دلخراش اور ناقابل برداشت سانحہ ہے، غمزدہ والدین اور لواحقین سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔
پمز اسپتال کے گائنی وارڈ میں آتشزدگی کے افسوسناک واقعے میں زندہ بچ جانے والی واحد نومولود کی خالہ نے ہوشربا انکشافات کر دیے۔
خالہ کے مطابق آگ لگنے کے وقت وہ موقع پر موجود تھیں، جیسے ہی آگ بھڑکی وہ وارڈ کی جانب دوڑیں جہاں ایک لیڈی ڈاکٹر اپنی جان بچا کر باہر نکل رہی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے خود اندر جا کر اپنی مدد آپ کے تحت بھانجی کو اٹھایا، اس دوران آگ ان کے بالوں اور کندھے تک پہنچی۔
زندہ بچ جانے والی نومولود کی خالہ نے بتایا کہ وارڈ میں کوئی ڈاکٹر یا نرس موجود نہیں تھی اور عملہ اپنی جان بچانے میں مصروف تھا۔ وہاں ایک مرد ڈاکٹر تھا وہ بھی بھاگ گیا، اس کے علاوہ بھی سب جا چکے تھے، میری بہن کا آپریشن ہوا تھا میں نے اسے اور بچی کو لیا اور میں بھی بھاگی اور دوموں کو فوری طور پر پولی کلینک لے آئی۔
خالہ کا کہنا ہے کہ پمز انتظامیہ ہم سے مسلسل رابطہ کر رہی ہے، کبھی کہا جاتا ہے کہ ہم کسی اور کا بچہ لے آئے ہیں اور کبھی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ بچی کو کسی ڈاکٹر نے بچایا، انہوں نے پمز انتطامیہ کے دعوؤں کو سختی سے مسترد کر دیا۔
واضح رہے کہ اس واقعے میں 15 نومولود جاں بحق ہوئے جبکہ ریسکیو ذرائع کے مطابق آگ صبح 6 بج کر 45 منٹ پر ایئرکنڈیشن کمپریسر پھٹنے سے لگی تھی۔
