وفاقی وزیرطارق فضل چوہدری کا استعفے سے متعلق بڑا اعلان پاکستان Roze News
پاکستان تازہ ترین

وفاقی وزیرطارق فضل چوہدری کا استعفے سے متعلق بڑا اعلان

وفاقی وزیرطارق فضل چوہدری کا استعفے سے متعلق بڑا اعلان

وفاقی وزیرطارق فضل چوہدری کا استعفے سے متعلق بڑا اعلان

قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چودھری کی جانب سے استعفے کی پیشکش نے ایوان میں نئی بحث چھیڑ دی اور ارکان اسمبلی بھی متوجہ ہوگئے۔

طارق فضل چودھری نے صومالیہ کے قریب 10 پاکستانی شہریوں کے بحری قزاقوں کے قبضے میں ہونے کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے دوٹوک انداز میں کہا کہ اگر ان کا مؤقف غلط ثابت ہوا تو وہ استعفیٰ دینے کے لیے تیار ہیں، تاہم اگر وہ درست ثابت ہوئے تو الزام لگانے والوں کو بھی استعفیٰ دینا چاہیے۔

وفاقی وزیر کے اس اعلان کے بعد قومی اسمبلی میں صورتحال خاصی دلچسپ ہوگئی اور ان کے بیان کو ایوان میں ایک نئے سیاسی بحث کے آغاز کے طور پر دیکھا گیا۔

پیپلزپارٹی کو جواب، ریکارڈ چیک کرنے کا مطالبہ

طارق فضل چودھری نے پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ الزام لگانے سے پہلے قومی اسمبلی کی کارروائی کا ریکارڈ چیک کرلیا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ صومالیہ میں پاکستانی شہریوں کے بحری قزاقوں کے قبضے میں ہونے کا معاملہ گزشتہ روز بھی ایوان میں زیر بحث آچکا ہے۔

صومالیہ میں 10 پاکستانی قزاقوں کے قبضے میں

وفاقی وزیر نے ایوان کو بتایا کہ صومالیہ کے قریب 10 پاکستانی شہری بحری قزاقوں کے قبضے میں ہیں اور ان کی رہائی کے بدلے 30 لاکھ ڈالر تاوان طلب کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے اور پاکستانی شہریوں کی بحفاظت بازیابی کے لیے سفارتی سطح پر ہر ممکن کوشش جاری ہے۔

حکومت کی سفارتی کوششیں جاری

طارق فضل چودھری کے مطابق پاکستان کے صومالیہ کے ساتھ براہ راست سفارتی تعلقات نہیں ہیں، تاہم جبوتی اور لندن میں موجود سفارتی ذرائع کے ذریعے معاملہ حل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دفتر خارجہ بھی معاملے کو متحرک انداز میں دیکھ رہا ہے اور حکومت کی پوری کوشش ہے کہ پاکستانی شہریوں کی رہائی کا معاملہ جلد حل کیا جائے۔

جہاز ایسے علاقے میں ہے جہاں صومالی حکومت کی عمل داری نہیں

وفاقی وزیر نے بتایا کہ متعلقہ بحری جہاز ایسے علاقے میں موجود ہے جہاں صومالی حکومت کی عمل داری نہیں۔ ان کے مطابق ’’پلاؤ‘‘ نامی ملک بھی اس جہاز کی ملکیت یا ذمہ داری قبول نہیں کررہا۔

30 لاکھ ڈالر تاوان کا مطالبہ

طارق فضل چودھری نے بتایا کہ بحری قزاقوں کی جانب سے مغوی پاکستانیوں کی رہائی کے لیے 30 لاکھ ڈالر تاوان طلب کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت تاوان کی ادائیگی کے معاملے میں محتاط ہے کیونکہ اگر ایسے واقعات میں تاوان ادا کیا جائے تو اس سے بحری قزاقوں کی حوصلہ افزائی ہوسکتی ہے اور مستقبل میں مزید جہاز اغوا ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

وفاقی وزیر کے مطابق مذکورہ جہاز کے بعد مزید چار جہاز بھی اغوا کیے جاچکے ہیں، جس سے خطے میں بحری سلامتی کی صورتحال کی سنگینی کا اندازہ ہوتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ حکومت ہوا میں کوئی بات نہیں کررہی بلکہ دفتر خارجہ کے ذریعے تمام ممکنہ سفارتی ذرائع استعمال کیے جارہے ہیں، جبکہ 10 پاکستانی شہریوں کی بحفاظت واپسی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

Exit mobile version