وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کے نشتر ہال میں ایک تقریب کے دوران گرمی محسوس کرنے اور ماتھے پر پسینہ آنے کے بعد تین سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائی کر دی گئی۔ تقریب پاکستان تحریک انصاف کی ٹریڈ یونین کی جانب سے منعقد کی گئی تھی۔
ذرائع کے مطابق نشتر ہال کی بکنگ کے لیے منتظمین کو ایک لاکھ روپے کرایہ، جبکہ ایئرکنڈیشننگ سسٹم کے استعمال کے لیے فی گھنٹہ 20 ہزار روپے اور 15 ہزار روپے سروس چارجز ادا کرنے کا کہا گیا۔
بعد ازاں ہال کا کرایہ معاف کر دیا گیا، تاہم اے سی کے استعمال اور سروس چارجز کی ادائیگی کی گئی۔ تقریب کے دوران ایئرکنڈیشننگ مؤثر انداز میں کام نہ کرنے کی شکایت سامنے آئی، جس کے باعث وزیراعلیٰ کو گرمی محسوس ہوئی اور ان کے ماتھے پر پسینہ آ گیا۔
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ کے پرسنل اسٹاف آفیسر نے معاملہ کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی کے ڈی جی کے نوٹس میں لایا، جس کے بعد ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی گئی۔
ڈائریکٹر کلچر اینڈ ٹورازم کو عہدے سے ہٹا کر ڈائریکٹر انویسٹمنٹ تعینات کر دیا گیا، نشتر ہال کے ڈپٹی ڈائریکٹر اور کیئرٹیکر کو بھی عہدوں سے ہٹا دیا گیا، جبکہ فکس پے پر تعینات الیکٹریشن کو ملازمت سے فارغ کر دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ کی موجودگی میں ایئرکنڈیشننگ کا مؤثر انداز میں کام نہ کرنا ناقابل قبول تھا، اسی لیے فوری کارروائی کی گئی۔
