رہنماء پی ٹی آئی شیر افضل خان مروت نے کہا ہے کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی کی سیاست ایسے ہے جیسے اندھیرے میں حلوہ بانٹا جا رہا ہو، کشمیر، گلگت بلتستان اور دیگر معاملات میں بھی یہی صورتحال نظر آتی ہے۔ ان کے ایکس کے مطابق شیرافضل مروت نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی کی سیاست ایسے ہے جیسے اندھیرے میں حلوہ بانٹا جا رہا ہو، جس کے ہاتھ جتنا آیا وہ لے گیا۔
کشمیر، گلگت بلتستان اور دیگر معاملات میں بھی یہی صورتحال نظر آتی ہے۔ یہ کوئی حق نہیں بلکہ سیاسی مفادات کی تقسیم ہے۔ انہوں نے نظام کو بہتر کرنے کے بجائے پہلے اسے نقصان پہنچایا، جو درست طریقہ نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ سسٹم آخر چلا کب ہے؟ سسٹم کا تو حلیہ ہی آپ لوگوں نے بگاڑ دیا ہے۔
جمہوریت، سول بالادستی اور عدالتی انصاف خواب بن چکے ہیں۔
دہشت گردی اور مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے، معیشت قرضوں تلے دبی ہوئی ہے۔ عمران خان، شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد، ماہ رنگ بلوچ، علی وزیر اور دیگر سیاسی رہنما و کارکن جیلوں میں ہیں۔ شیر افضل خان مروت نے کہا کہ سسٹم آخر چلا کب ہے؟ ملک میں جمہوریت، سول بالادستی اور عدالتی انصاف خواب بن چکے ہیں۔ دہشت گردی، مہنگائی اور معاشی بحران بڑھ رہا ہے، جبکہ عمران خان، شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد، ماہ رنگ بلوچ، علی وزیر، اور دیگر سیاسی رہنما و کارکن جیلوں میں ہیں۔
عوام کو امید تھی کہ عدلیہ اور الیکشن ٹریبونلز انصاف فراہم کریں گے، مگر میرے مطابق انصاف کا نظام بھی اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہا۔ شیر افضل خان مروت نے کہا کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ آج کشمیر کے حالات ہیں، جہاں قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں، مگر ہماری سیاسی قیادت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ کسی نے بھی آگے بڑھ کر جرگے اور مصالحت کی کوشش نہیں کی، حالانکہ امن کی بات سے ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں۔
جہاں تک بلاول بھٹو کے بیان کا تعلق ہے، اگر نون لیگ کی الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے تو پیپلز پارٹی بھی اس سے الگ نہیں، کیونکہ سب ایک ہی کشتی کے سوار ہیں۔ نون لیگ ڈوبی تو اس کے اتحادی بھی ساتھ جائیں گے۔ شیر افضل خان مروت نے کہا کہ عمران خان، شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد، ماہ رنگ بلوچ، علی وزیر، اور دیگر سیاسی رہنما و کارکن جیلوں میں ہیں۔ عوام کو امید تھی کہ عدلیہ اور الیکشن ٹریبونلز انصاف فراہم کریں گے، مگر میرے مطابق انصاف کا نظام بھی اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہا
