پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ دہشت گردوں سے بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں، ہتھیار ڈال دیں ورنہ ہم ختم کردیں گے۔
سکیورٹی معاملات پر نیوز کانفرنس کے دوران ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے بتایا کہ فورسز نے 40 ہزار 348 آپریشنز کیے، 819 جوان شہید ہوئے جبکہ 2084 دہشت گرد مارے گئے، بلوچستان میں 31 ہزار 80 اور خیبر پختونخوا میں 7 ہزار 177 آپریشن کئے گئے، 2 ہزار 84 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا، 2023 میں شہدا کی تعداد زیادہ تھی دہشت گرد کم مارے جا رہے تھے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے بتایا کہ پاکستان کے دیگر علاقوں میں صرف 2 ہزار 91 آپریشن کیے گئے، 2026 میں بم دھماکوں کے 28 واقعات ہوئے، بم دھماکوں میں زیادہ تر افغان شہری ملوث تھے، دہشت گرد ریاست کے سامنے جھکیں ورنہ بھرپور جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حوالے سے جان بوجھ کر منفی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، پاکستان میں آئین اور قوانین سب کے لیے یکساں ہیں، ریاست سے وفاداری ہر شہری کا حق ہے، پاکستان ہی ہماری آخری پہچان ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے واقعات میں 322 پاکستانی شہری شہید ہوئے، دہشت گردوں سے بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں، دہشت گردوں کو ہتھیار ڈالنے ہوں گے یا ہم انہیں ختم کردیں گے ، دہشت گردوں کو اب سمجھ آگیا ہے ان سے کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔

Leave feedback about this