پاک ایران تجارت میں بڑا بریک تھرو؟ گبد ریمدان سرحد 24 گھنٹے کھولنے کی تجویز سامنے آگئی تازہ ترین Roze News
تازہ ترین معیشت و تجارت

پاک ایران تجارت میں بڑا بریک تھرو؟ گبد ریمدان سرحد 24 گھنٹے کھولنے کی تجویز سامنے آگئی

پاک ایران تجارت میں بڑا بریک تھرو؟ گبد ریمدان سرحد 24 گھنٹے کھولنے کی تجویز سامنے آگئی

پاک ایران تجارت میں بڑا بریک تھرو؟ گبد ریمدان سرحد 24 گھنٹے کھولنے کی تجویز سامنے آگئی

پاکستان اور ایران کے درمیان تجارتی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایران کے قونصل جنرل محمد کریمی تودشکی نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں، جبکہ گبد ریمدان سرحدی گزرگاہ کو 24 گھنٹے فعال رکھنے کی تجویز بھی سامنے آگئی ہے۔

ایرانی قونصل جنرل نے کوئٹہ ایوان صنعت و تجارت کے عہدیداروں اور بلوچستان کے کاروباری افراد سے ملاقات کے دوران کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے تجارتی تعلقات دونوں ممالک کے معاشی مفاد میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرحدی سہولیات میں بہتری، کسٹمز نظام کو آسان بنانے اور تاجروں کو درپیش انتظامی مسائل کے حل کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

محمد کریمی تودشکی کا کہنا تھا کہ ایران پاکستان کے ساتھ تجارتی تعلقات کو وسعت دینے کے لیے پُرعزم ہے اور کاروباری برادری کو درپیش مشکلات کے حل کے لیے تعاون جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے تاجروں کے مسائل کو ایران اپنے تاجروں کے مسائل کی طرح اہمیت دیتا ہے۔

ملاقات میں گبد ریمدان سمیت دیگر سرحدی گزرگاہوں پر سہولیات بہتر بنانے، کسٹمز مراحل آسان کرنے اور تجارتی سامان کی کلیئرنس تیز کرنے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایرانی قونصل جنرل نے جدید تجارتی نظام، ڈیجیٹل دستاویزات، جدید اسکیننگ اور تیز رفتار کسٹمز کلیئرنس کی ضرورت پر زور دیا۔

کوئٹہ ایوان صنعت و تجارت کے صدر حاجی محمد ایوب مریانی نے مطالبہ کیا کہ گبد ریمدان سرحدی گزرگاہ کو ہفتے کے ساتوں دن 24 گھنٹے کھلا رکھا جائے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان درآمدات اور برآمدات کا عمل بلا تعطل جاری رہ سکے۔

انہوں نے کہا کہ محدود اوقات کار کے باعث تجارتی گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ جاتی ہیں، جس سے تاجروں کو اضافی اخراجات، ایندھن، کرایوں اور خراب ہونے والی اشیا کے نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرحد پر کسٹمز عملے میں اضافہ، اضافی شفٹوں کا اجرا، پارکنگ مراکز اور بنیادی سہولیات کی فراہمی وقت کی ضرورت ہے۔

گبد ریمدان سرحد بلوچستان کے ساحلی علاقوں کو ایران سے ملانے والی ایک اہم تجارتی گزرگاہ ہے، جو گوادر اور ایران کی چاہ بہار بندرگاہ کے درمیان زمینی رابطے کی اہمیت رکھتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس راستے کو مکمل تجارتی مرکز کے طور پر ترقی دے کر علاقائی تجارت کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

پاکستان اور ایران نے دوطرفہ تجارت کا حجم 2028 تک 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔ اس مقصد کے لیے سرحدی منڈیوں کو فعال بنانے، بارٹر تجارت کو فروغ دینے، کسٹمز تعاون بہتر کرنے اور تجارتی رکاوٹیں ختم کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔

کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ گبد ریمدان سرحد کو 24 گھنٹے فعال کرنے کے ساتھ جدید کسٹمز نظام، بہتر انفرااسٹرکچر اور تیز رفتار کلیئرنس کی سہولیات فراہم کی جائیں تو بلوچستان سمیت دونوں ممالک کے سرحدی علاقوں میں تجارت، روزگار اور معاشی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔

Exit mobile version