ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے خبردار کیا ہے کہ ایران کی توانائی برآمدات روکی گئیں تو مشرقِ وسطیٰ سے تیل اور گیس کی ترسیل بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
غیر مکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کیے جانے کے بعد پاسدارانِ انقلاب نے انتباہ جاری کیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ خطے سے تیل اور گیس کی برآمدات یا تو سب کے لیے ہوں گی یا پھر کسی کے لیے نہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کئی روز سے جاری جوابی کارروائیوں اور آبنائے ہرمز پر اثر و رسوخ قائم کرنے کی کوششوں نے خطے میں ایک بار پھر بڑے پیمانے پر جنگ کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 13 جولائی کو ایران پر بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا۔
اس کے ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے 20 فیصد فیس وصول کی جائے گی۔
بعدازاں خلیجی اتحادی ممالک کی درخواست پر انہوں نے بحری ناکہ بندی بحال کرنے سے چند گھنٹے قبل ہی اس مجوزہ فیس کو واپس لینے کا اعلان کر دیا تھا۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس آبی راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی منڈی اور تیل کی قیمتوں پر فوری اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کا تازہ بیان اس بات کا اشارہ ہے کہ اگر اس کی توانائی برآمدات کو مزید محدود کیا گیا تو تہران خطے کی توانائی سپلائی کو بھی دباؤ کے لیے استعمال کر سکتا ہے، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
