قومی سلامتی کے اداروں سے متعلق بیان پر دائر درخواست، عدالت نے مولانا فضل الرحمان کو طلب کر لیا۔
قومی سلامتی کے اداروں سے متعلق دیے گئے بیان پر دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے ایڈیشنل سیشن جج فیصل جمیل نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو 28 جولائی کو عدالت میں طلب کر لیا۔
درخواست سینئر وکیل منظور قادر کی جانب سے دائر کی گئی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ مولانا فضل الرحمان نے قومی سلامتی کے اداروں کے حوالے سے متنازعہ بیان دیا، جس پر قانونی کارروائی کی جائے۔
عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کو آئندہ سماعت پر طلب کر لیا۔
دوسری جانب مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیان پر سیاسی حلقوں میں بھی ردعمل سامنے آیا ہے۔ پنجاب اسمبلی میں استحکام پاکستان پارٹی کی جانب سے ایک قرارداد جمع کرائی گئی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیز بیانات قومی مفاد کے منافی ہیں۔
قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ قومی سلامتی کے اداروں کو سیاسی تنقید کا نشانہ بنانا افسوسناک ہے اور ایسے بیانات دشمن عناصر کے بیانیے کو تقویت دے سکتے ہیں۔ قرارداد میں قومی اداروں کے وقار کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمان یا جمعیت علمائے اسلام (ف) کی جانب سے اس درخواست یا پنجاب اسمبلی میں پیش کی گئی قرارداد پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
