افغان شہری کو پاکستانی شناختی کارڈ جاری کرنے کا معاملہ، نادرا حکام سمیت متعدد افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔
افغان شہری کو مبینہ طور پر غلط بیانی کے ذریعے پاکستانی کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (CNIC) حاصل کروانے کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں تحقیقات کے بعد نادرا حکام سمیت متعدد افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق نادرا ریجنل ہیڈ آفس اسلام آباد کی شکایت پر افغان شہری محمد امین کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ ملزم افغان شہری ہے اور اس نے مبینہ طور پر غلط معلومات فراہم کرکے پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کیا۔
تحقیقات کے دوران معاملہ نادرا زونل بورڈ کو بھیجا گیا، جہاں سے ملزم کے شناختی کارڈ کی منظوری دی گئی تھی۔ بعد ازاں مکمل تحقیقات کے بعد متعلقہ افراد کے کردار کا تعین کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق 28 اپریل 2026 کو افغان شہری محمد امین سمیت نادرا کے متعلقہ حکام کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ مقدمے میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر شہزاد محمد نسیم، سینئر ایگزیکٹو راجا تیمور اور انٹیلی جنس آفیسر سجید محمود کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کیس میں نامزد بعض ملزمان کی ضمانتیں بھی منسوخ ہو چکی ہیں، جبکہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ شناختی دستاویزات کے اجرا کے عمل میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں کا مکمل جائزہ لیا جا سکے۔
حکام کے مطابق قومی شناختی دستاویزات کے اجرا کے نظام میں شفافیت برقرار رکھنے کے لیے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔
