وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ تہران پہنچے جہاں انہوں نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تجہیز و تکفین میں شرکت کی جس کے بعد شہبازشریف دورہ ترکیہ کیلئے استنبول روانہ ہو گئے۔
پاکستانی قیادت نے گرینڈ مصلا امام خمینی آمد پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی اور آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔
وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ہمراہ پاکستان کا ایک اعلیٰ سطح کا وفد بھی تہران پہنچا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ایران کے وزیر دفاع سے بھی ملاقات کی۔
اس وفد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیر داخلہ محسن نقوی، سابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور دیگر اعلیٰ حکام شامل تھے۔
تہران کے گرینڈ مصلا امام خمینی پہنچنے پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے پاکستانی وفد کا گرمجوشی سے استقبال کیا۔
رسوماتِ تکفین کے دوران وزیراعظم میاں شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وفد کے دیگر ارکان نے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے لیے فاتحہ خوانی کی اور انہیں ملتِ اسلامیہ کے لیے خدمات پر زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔
وزیراعظم نے اسلام کے لیے شہید سپریم لیڈر کی گراں قدر خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کئی دہائیوں تک غیر معمولی بصیرت، حکمت اور دوراندیشی کے ساتھ ایرانی قوم کی رہنمائی کی۔
وزیراعظم نے سپریم لیڈر، آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای، صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان اور برادر عوامِ ایران کے ساتھ اس قومی سانحے پر مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور شہید رہنما کے درجات کی بلندی اور مغفرت کے لیے دعا کی۔
سینیٹ چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی اور اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی قیادت میں پارلیمانی وفد، ارکانِ پارلیمان اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی وزیراعظم کے ہمراہ جنازے میں شرکت کی۔
وزیراعظم نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت نہ صرف ایران بلکہ پوری مسلم امہ کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے اور پاکستان دکھ کی اس گھڑی میں اپنے ایرانی بھائیوں کے غم میں برابر کا شریک ہے۔
نمازِ جنازہ میں شرکت کے بعد وزیراعظم، جو آج ہی تہران پہنچے تھے، اپنے سرکاری دورۂ ترکیہ کے لیے استنبول روانہ ہوگئے۔

Leave feedback about this