ایران نے بازی پلٹ دی!ایرانی تیل مہنگا فروخت ہونے لگا، 4 کروڑ بیرل تیل ایکسپورٹ پاکستان Roze News
پاکستان تازہ ترین دنیا

ایران نے بازی پلٹ دی!ایرانی تیل مہنگا فروخت ہونے لگا، 4 کروڑ بیرل تیل ایکسپورٹ

ایران نے بازی پلٹ دی!ایرانی تیل مہنگا فروخت ہونے لگا، 4 کروڑ بیرل تیل ایکسپورٹ

ایران نے بازی پلٹ دی!ایرانی تیل مہنگا فروخت ہونے لگا، 4 کروڑ بیرل تیل ایکسپورٹ

ایران نے امریکی بحری ناکہ بندی ختم ہونے کے بعد 4 کروڑ سے زائد بیرل خام تیل برآمد کرنے اور جنگ سے پہلے کے مقابلے میں تقریباً 20 فیصد زیادہ قیمت پر فروخت کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے کے بعد ایران نے خام تیل کی برآمدات میں نمایاں اضافے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اب تک 4 کروڑ سے زائد بیرل تیل برآمد کر چکا ہے، جبکہ جنگ سے پہلے کے مقابلے میں اپنا تیل تقریباً 20 فیصد زیادہ قیمت پر فروخت کر رہا ہے۔

ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے اپنے بیان میں کہا کہ ناکہ بندی ختم ہونے کے بعد سے ایران کی تیل برآمدات میں تیزی آئی ہے۔ ان کے مطابق معاہدے سے قبل تقریباً دو ماہ تک جاری ناکہ بندی کے دوران ایران ایک بیرل تیل بھی برآمد نہیں کر سکا تھا، تاہم پابندیاں نرم ہونے کے بعد برآمدات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

یاد رہے کہ امریکا اور ایران نے 17 جون کو ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت تقریباً چار ماہ سے جاری کشیدگی کے خاتمے، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور مستقل امن معاہدے کے لیے 60 روزہ مذاکرات پر اتفاق کیا گیا تھا۔ اگرچہ بعد ازاں چند مختصر جھڑپیں بھی ہوئیں، تاہم تیل کی ترسیل کا عمل دوبارہ بحال ہو گیا۔

بین الاقوامی ذرائع کے مطابق جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز سے خام تیل کی ترسیل میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی بہتر ہوئی اور قیمتوں پر دباؤ برقرار رہا۔ بدھ کے روز برینٹ خام تیل تقریباً 73 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا، جو اپریل میں ریکارڈ کی گئی 118 ڈالر فی بیرل کی بلند ترین سطح سے تقریباً 40 فیصد کم ہے۔

ادھر آئل ٹینکرز کی نگرانی کرنے والی کمپنی ٹینکر ٹریکرز نے اندازہ ظاہر کیا ہے کہ ناکہ بندی کے خاتمے کے بعد گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ایران تقریباً 5 کروڑ بیرل خام تیل برآمد کر چکا ہے۔

معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سفارتی پیش رفت، خلیجی ممالک سے تیل کی سپلائی میں اضافے اور عالمی منڈی میں استحکام کے باعث ایران کو اپنی تیل برآمدات بہتر قیمت پر فروخت کرنے کا موقع ملا ہے۔

محمد باقر قالیباف نے مزید واضح کیا کہ ایران نے 60 روزہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر ٹول ٹیکس وصول نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے، تاہم آبی گزرگاہ کے انتظامی اور خودمختار اختیارات بدستور ایران اور عمان کے پاس رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کسی بھی صورت آبنائے ہرمز میں اپنے خودمختار حقوق سے دستبردار نہیں ہوگا، کیونکہ یہ اس کی علاقائی سمندری حدود کا حصہ ہے۔

دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ 60 روزہ مذاکراتی مدت ختم ہونے کے بعد آبنائے ہرمز کے انتظام اور خطے کی سکیورٹی صورتحال عالمی توانائی منڈی کے لیے اہمیت اختیار کر جائے گی، جس پر سرمایہ کاروں کی گہری نظر برقرار ہے۔

Exit mobile version