پاکستان نے 2030 تک سعودی عرب میں 10 لاکھ ہنر مند اور نیم ہنر مند افراد پر مشتمل ورک فورس بھیجنے کا ہدف مقرر کیا ہے، جسے طویل المدتی ورک فورس ڈویلپمنٹ حکمت عملی کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان-سعودی عرب اکنامک کوآپریشن فریم ورک کے تحت تیار کیے گئے ہیومن ریسورس ڈیپلائیمنٹ پلان (2025–2039) کا حصہ ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان لیبر موبیلٹی، انسانی وسائل کی ترقی اور معاشی تعاون کو مزید مستحکم بنانا ہے۔
منصوبے کے تحت سالانہ بیرونِ ملک بھیجے جانے والے پاکستانی ورکرز کی تعداد کو 2039 تک بڑھا کر 15 لاکھ 10 ہزار تک لے جانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس کے لیے ہنر مند، نیم ہنر مند اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افرادی قوت کی ایک منظم پائپ لائن تیار کی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق اس منصوبے میں جن شعبوں کو ترجیح دی گئی ہے ان میں تعمیرات، ہوٹل و ٹورزم، صحت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، لاجسٹکس، ایوی ایشن اور انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ شامل ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب پہلے ہی پاکستانی ورکرز کے لیے سب سے بڑی لیبر مارکیٹ ہے۔ بیورو آف امیگریشن کے مطابق 2025 میں 7 لاکھ 62 ہزار سے زائد پاکستانی بیرون ملک روزگار کے لیے رجسٹرڈ ہوئے، جن میں سے تقریباً 5 لاکھ 30 ہزار افراد سعودی عرب گئے، جو کل کا 69 فیصد سے زیادہ ہے۔
سرکاری چینلز کے ذریعے بیرون ملک جانے والے 96 فیصد سے زائد پاکستانی ورکرز گلف کوآپریشن کونسل ممالک، بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں ملازمت حاصل کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق سعودی عرب کے ویژن 2030 کے تحت جاری بڑے ترقیاتی منصوبوں نے تعمیرات اور خدمات کے شعبوں میں لیبر کی طلب میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جس سے پاکستان کے لیے روزگار کے مزید مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
منصوبے کے تحت پاکستان اپنی ورک فورس کو سعودی مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ڈھالنے کے لیے تربیتی پروگراموں کو بھی وسعت دے رہا ہے۔ ان پروگراموں میں تعمیرات، صحت، آئی ٹی اور انجینئرنگ کے شعبوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے اس منصوبے کے لیے 38 ارب ڈالر کے سرمایہ کاری فریم ورک کی تجویز دی ہے، جس میں تکنیکی و ووکیشنل تعلیم اور اعلیٰ تعلیم کے شعبے شامل ہیں، تاکہ جدید لیبر مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق افرادی قوت تیار کی جا سکے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ 2024-25 کے دوران 70 سے زائد مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے، جبکہ مختلف اقدامات کے نتیجے میں ہزاروں ورکرز کی تعیناتی عمل میں آئی ہے۔ مستقبل میں فیفا ورلڈ کپ 2034 سمیت بڑے بین الاقوامی منصوبوں کے لیے بھی افرادی قوت کی تیاری کا ہدف رکھا گیا ہے۔
حکام کے مطابق یہ حکمت عملی پاکستان کو سعودی عرب کے لیے ایک ترجیحی ورک فورس پارٹنر کے طور پر مزید مضبوط کرے گی اور ترسیلاتِ زر میں اضافے کا باعث بنے گی۔
