بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم حسینہ واجد نے اعلان کیا ہے کہ وہ رواں سال ہر رکاوٹ عبور کرتے ہوئے بنگلہ دیش واپس آئیں گی، انہوں نے اپنے خلاف مقدمات اور سزائے موت کے فیصلے کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوامی لیگ کو ختم کرنا ممکن نہیں کیونکہ یہ صرف ایک جماعت نہیں بلکہ عوام کی طاقت ہے۔
بھارت میں ایک بھارتی نشریاتی ادا رے کو ای میل کے ذریعے دیئے گئے انٹرویو میں حسینہ واجد نے کہا ہے کہ ان کی بنگلہ دیش واپسی کسی ذاتی خواہش کا نتیجہ نہیں بلکہ ملک میں جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور عوام کے سیاسی حقوق کی بحالی سے جڑی ہوئی ہے۔
اقتدار میں برقرار رہنے کے لئے اپنی حکومت کے آخری چند ہفتوں کے دوران درجنوں سٹوڈنٹس کو موت کے گھاٹ اتار دینے کے احکامات دینے والی سابق وزیر اعظم نے دعویٰ کیا، میں اقتدار کے لیے نہیں بلکہ بنگلہ دیش کے بانیِ بنگلہ دیش مجیب الرحمٰن کے سنہری بنگلہ کے خواب کی تکمیل کے لئے سیاست کرتی ہوں۔ حسینہ واجد کو عوام کے شدید احتجاج کو بربریت کے ساتھ کچلنے کے دوران سینکڑوں افراد کے مارے جانے کے بعد استعفیٰ دے کر بھارت بھاگنا پڑا تھا۔
سٹوڈنٹس کی قیادت میں ہونے والے احتجاجوں کو کچلنے کے لئے حسینہ واجد نے ریاستی اداروں کو تشدد کرنے کے لئے اندھا دھند استعمال کیا تھا۔ مظاہرین کی اموات سے احتجاج رکنے کی بجائے مزید پھیل گیا تھا اور حالات پولیس کے قابو سے باہر نکل گئے تھے۔ حسینہ واجد کے بنگلہ دیش سے فرار ہو جانے کے بعد عدالتوں میں ان پر احتجاج کو کچلنے کے دوران ہونے والی اموات کی ذمہ داری عاید کی گئی، مقدمہ چلا اور ان کو سٹوڈنٹس کو تشدد کر کے مارنے کا حکم دینے کا جرم ثابت ہو جانے پر پھانسی کی سزا ہو گئی۔
بھارتی نشریاتی ادارہ کی رپورٹ کے مطابق حسینہ واجد نے اپنے خلاف سزائے موت کے فیصلے کو انصاف نہیں بلکہ غیر آئینی، غیر قانونی اور سیاسی انتقام پر مبنی کارروائی قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ عدلیہ کو عوامی لیگ کو قیادت سے محروم کرنے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے،وہ موت سے نہیں ڈرتیں،انہوں نے یاد دلایا کہ 1975 میں انہوں نے اپنے والدین، بھائیوں اور خاندان کے بیشتر افراد کو کھو دیا تھا جبکہ 21 اگست کے گرینیڈ حملے میں بھی انہیں نشانہ بنایا گیا لیکن تمام سازشوں کے باوجود وہ عوام کے ساتھ کھڑی رہیں۔
حسینہ واجد نے کہا کہ وہ عوام کے ووٹوں سے 5 مرتبہ وزیراعظم منتخب ہوئیں اور اپنے دورِ حکومت میں ملک کی ترقی کے لئے کام کیا، اسی لیے وہ پورے یقین سے کہتی ہیں کہ تمام رکاوٹوں اور سازشوں کے باوجود رواں سال اپنے بنگلہ دیش واپس آئیں گی۔
عوامی لیگ کی سیاسی قوت سے متعلق سوال پر حسینہ واجد نے کہا کہ عوامی لیگ کوئی کاغذی تنظیم نہیں بلکہ بنگال کی سرزمین، عوام، تاریخ اور بنگالی قوم کی شناخت سے جڑی ہوئی ایک مضبوط سیاسی قوت ہے۔ اپنے 77 سالہ سفر کے دوران عوامی لیگ پر کئی بار پابندیاں لگیں، کارکنوں نے قربانیاں دیں اور جماعت کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا مگر ہر بار عوام کی طاقت کے ذریعے یہ جماعت پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر ابھری۔

Leave feedback about this