تحریر:عبدالجبار ترین

دنیا جس تیزی سے 21ویں صدی میں طاقت کے نئے توازن کی طرف بڑھ رہی ہے، وہاں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگ نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ عالمی نظام دراصل “rules-based order” کے دعووں کے برعکس طاقت، مفادات اور اسٹریٹجک جبر کے گرد گھومتا ہے۔ اس پس منظر میں پاکستان کا عالمی سطح پر ایک امن کا پیامبر بن کر ابھرنا کوئی معمولی سفارتی واقعہ نہیں بلکہ ایک غیر معمولی جیوپولیٹیکل مداخلت تھی جس نے نہ صرف ایک ممکنہ بڑی جنگ کو روکا بلکہ یہ بھی ثابت کیا کہ بعض اوقات کمزور معیشتیں بھی اپنی جغرافیائی اہمیت اور سفارتی طاقت کے ذریعے بڑی طاقتوں کو وقتی طور پر اپنی طاقت آزمائی سے روکنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ ایران اور
امریکہ–اسرائیل محور کے درمیان جنگ کسی ایک واقعے کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ برسوں کی عدم اعتمادی، پراکسی جنگوں، خلیج میں امریکہ کی عسکری موجودگی اور ایٹمی پروگرام کے گرد گھومنے والی پولیٹیکل انجینئرنگ کا نتیجہ تھی۔ اس صورتحال نے جونہی ابنائے ہرمز کی بندش، توانائی کی سپلائی لائنز کے ٹوٹنے اور اسرائیل–ایران براہ راست میزائل جنگ کے خطرے کو جنم دیا، تو یہ واضح ہو گیا کہ اگر فوری طور پر اس صورتحال کو کنٹرول نہ کیا گیا تو مشرق وسطی ایک ایسی جنگ میں داخل ہو جائے گا جس کا کنٹرول کسی کے پاس نہیں رہے گا۔
یہی وہ مقام تھا جہاں پاکستان کا کردار سامنے آیا اور پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے ایک تاریخی کردار ادا کیا، مگر اس کردار کو محض “امن کا پیامبر” کہہ کر بیان کرنا سطحی تجزیہ ہوگا۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے اس بحران میں ایک strategic shock absorber کا کردار ادا کیا، یعنی یہ ایک ایسی ریاست جو نہ جنگ شروع کرنے والی تھی، نہ جنگ میں مرکزی فریق تھی، مگر جس کے بغیر جنگ بندی ممکن ہی نہیں تھی۔ اسلام آباد نے بیک چینل سفارت کاری کے وہ دروازے کھولے جو واشنگٹن اور تہران کے درمیان مکمل طور پر بند ہو چکے تھے، اور اسی خلا میں پاکستان نے اپنی جگہ بنائی۔بین الاقوامی میڈیا نے اس غیر معمولی پیش رفت کو مختلف زاویوں سے دیکھا۔ بعض مغربی حلقوں نے پاکستان کو “unexpected diplomatic broker” قرار دیا، مگر اس کے ساتھ ہی ایک تلخ سوال بھی اٹھایا گیا کہ آخر ایک معاشی طور پر دباؤ کا شکار ملک کیسے اس درجے کی سفارتی طاقت حاصل کر گیا؟ یہی وہ سوال ہے جس کا جواب روایتی تجزیہ کار دینے سے قاصر ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اثر و رسوخ ہمیشہ GDP سے نہیں بلکہ “access and trust corridors” سے طے ہوتا ہے، اور پاکستان اس وقت ان چند ممالک میں شامل تھا جو بیک وقت تہران، واشنگٹن، بیجنگ اور خلیجی حکمرانوں سے بات کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔
اسلام آباد کو ایک غیر رسمی مذاکراتی مرکز کے طور پر استعمال کرنا دراصل اس بات کا اعتراف تھا کہ رسمی ادارے ناکام ہو چکے تھے۔ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارمز، یورپی سفارت کاری اور بڑی طاقتوں کے روایتی چینلز اس بحران کو سنبھالنے میں ناکام رہے۔ نتیجتاً وہ کردار پاکستان نے ادا کیا جسے بعض تجزیہ کار اب “crisis containment diplomacy” کا نام دے رہے ہیں۔ یہ کوئی کلاسیکی امن معاہدہ نہیں تھا بلکہ ایک وقتی مگر ضروری جنگ بندی تھی جس نے خطے کو مکمل تباہی سے بچایا۔
اگر پاکستان کی طرف سے یہ بر وقت مداخلت نہ ہوتی تو صورتحال بہت تیزی سے ایک مکمل علاقائی جنگ میں بدل سکتی تھی۔ آبنائے ہرمز کی بندش عالمی معیشت کے لیے ایک بہت بڑا جھٹکا تھی جس کے اثرات یورپ سے لے کر ایشیا تک محسوس کیے گئے۔ تیل کی قیمتوں میں بے قابو اضافہ، عالمی سپلائی چین میں تعطل اور مشرق وسطیٰ میں ریاستی ڈھانچوں کی کمزوری ایک ایسے بحران کو جنم دے سکتی تھی جو 21ویں صدی کی سب سے بڑی جغرافیائی سیاسی تباہی بن جاتا۔
پاکستان کے کردار کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اس نے خود کو “beneficiary” کے بجائے “stabilizer” کے طور پر پیش کیا۔ یہ پاکستان کے سفارتی رویے میں ایک غیر معمولی تبدیلی ہے کیونکہ ماضی میں جنوبی ایشیا میں پاکستان کو اکثر ایک ردعمل دینے والی ریاست کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے، لیکن اس بحران میں اس نے ایک proactive اور agenda-setting کردار ادا کیا۔ یہی تبدیلی عالمی طاقتوں کے لیے حیران کن بھی تھی اور تشویش ناک بھی، کیونکہ اس سے یہ ظاہر ہوا کہ طاقت کا مرکز اب مکمل طور پر امریکہ اور مغربی دارالحکومتوں تک محدود نہیں رہا۔
تاہم اس سارے عمل کو غیر مشروط کامیابی کہنا بھی ایک جذباتی تشریح ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ جنگ بندی کمزور بنیادوں پر کھڑی ایک نازک سیاسی سمجھوتہ ہے، جس کے پیچھے مستقل امن کا کوئی جامع ڈھانچہ فی الحال موجود نہیں۔ یہ محض ایک وقفہ ہے، ایک pause، نہ کہ حل۔ اور یہی وہ خطرناک نکتہ ہے جہاں پاکستان کی سفارتی کامیابی اپنی حدود کو چھوتی ہے۔ مگر ہمیں مکمل امید ہے کہ سوٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات میں اس کا کوئی نہ کوئی مستقل حل بھی تلاش کر لیا جائے گا۔
ایک اور اہم بات یہ ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کے کردار کو سراہا ضرور گیا ہے مگر ساتھ ہی یہ بھی واضح ہے کہ بڑی طاقتیں پاکستان کی اس نئی عالمی پوزیشن کو مکمل طور پر قبول کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔ امریکہ اور یورپ اسے ایک tactical necessity کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جبکہ ایران اور خطے کے دیگر ممالک اسے ایک temporary convenience سمجھتے ہیں۔ یعنی تعریف تو موجود ہے مگر مستقبل کے لیے شاید مکمل اعتماد نہیں ہے۔
اس کے باوجود یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان نے ایک ایسے وقت میں عالمی سیاست میں بھرپور قدم رکھا ہے جب روایتی طاقتیں اپنی credibility کھو رہی ہیں۔ یہ ایک ایسا موقع ہے جہاں پاکستان اگر اپنی داخلی کمزوریوں پر قابو پا لے تو وہ صرف وقتی طور پر ثالث نہیں بلکہ مستقبل کے regional diplomatic architecture کا مستقل حصہ بن سکتا ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان نے کیا حاصل کیا، بلکہ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اپنے اس عالمی کردار کو برقرار رکھ سکتا ہے؟ کیونکہ ماضی میں دیکھا گیا ہے کہ عالمی سیاست میں کسی قوم کی وقتی کامیابیاں ہمیشہ مستقل حیثیت میں تبدیل نہیں ہوتیں۔ اس لیے پاکستان میں اگر سفارتی تسلسل، سیاسی اور معاشی استحکام اور ادارہ جاتی مضبوطی پیدا نہ کی گئی تو یہ کردار بھی تاریخ کے ان چند “flash in the pan” واقعات میں شامل ہو جائے گا جہاں کوئی ملک وقتی طور پر بین الاقوامی سیاست میں مرکزی کردار میں آیا مگر اپنی اس عالمی حیثیت کوبرقرار نہ رکھ سکا۔
فی الحال اتنا ضرور طے ہے کہ حالیہ ایران–امریکہ–اسرائیل بحران میں پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے جس انداز میں ایک غیر معمولی، غیر متوقع اور جارحانہ سفارتی انٹری دی ہے اور پاکستان کی عالمی حیثیت کو منوایا ہے اس صورتحال نے عالمی طاقتوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ اب جغرافیہ صرف جنگ کا نہیں بلکہ امن کی سیاست کا بھی سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ پاکستان کی حالیہ ثالثی نے ثابت کیا ہے کہ جاندار سفارتکاری طاقت سے زیادہ موثر ہو سکتی ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں یہ کامیابی پاکستان کو عالمی اسٹیج پر نئے روپ میں پیش کرتی ہے۔ مستقبل میں پاکستان خطے اور دنیا کے امن کا محافظ بن سکتا ہے، بشرطیکہ اس momentum کو برقرار رکھا جائے۔ یہ نہ صرف ایک عالمی کامیابی ہے بلکہ بین الاقوامی سیاست میں ایک paradigm shift کی علامت ہے۔

Leave feedback about this