ایران اور امریکا کے درمیان 60 روزہ امن معاہدے کی خبروں کے بعد پاکستان کی اوپن مارکیٹ میں ایرانی ریال کی طلب میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے نتیجے میں کرنسی کی قیمت راتوں رات تقریباً دگنی ہو گئی ہے اور خریداروں کی بڑی تعداد مارکیٹ کا رخ کر رہی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق علاقائی حالات میں بہتری اور ایران کے معاشی مستقبل سے متعلق مثبت توقعات کے باعث پاکستانی شہریوں، خصوصاً متوسط طبقے میں ایرانی کرنسی کی خریداری کا رجحان بڑھا ہے خریدار اس امید پر ریال خرید رہے ہیں کہ مستقبل میں اس کی قدر مزید بڑھ سکتی ہے۔
ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے مطابق چند روز قبل تک ایک کروڑ ایرانی ریال کا بنڈل تقریباً 2و ہزار روپے میں دستیاب تھا، تاہم بڑھتی ہوئی طلب کے باعث یہی بنڈل اب 4 ہزار روپے تک فروخت ہو رہا ہے، جو تقریباً سو فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔
ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک بوستان کے مطابق گزشتہ پانچ دنوں کے دوران پاکستانی شہریوں نے اوپن مارکیٹ سے تقریباً تین ہزار ارب روپے مالیت کی ایرانی کرنسی خریدی، جس سے مارکیٹ میں غیر معمولی سرگرمی دیکھنے میں آئی ہے۔
ملک کے مختلف شہروں میں سپلائی اور طلب کے فرق کے باعث ریال کی قیمتوں میں بھی نمایاں فرق پایا جا رہا ہے، کراچی اس مارکیٹ کا بڑا مرکز ہے، جبکہ دیگر چھوٹے شہروں میں محدود دستیابی کے باعث قیمتیں زیادہ رپورٹ ہو رہی ہیں۔
کرنسی مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی قیاس آرائیوں اور خریداری کے رجحان پر ماہرین نے محتاط رویہ اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے،چیئرمین ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ صرف اسٹیٹ بینک سے منظور شدہ اور لائسنس یافتہ ایکسچینج کمپنیوں کے ذریعے ہی لین دین کریں تاکہ کسی بھی ممکنہ دھوکے یا نقصان سے بچا جا سکے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں واقعی کمی آتی ہے اور معاشی حالات بہتر ہوتے ہیں تو ایرانی کرنسی کی قدر میں مزید استحکام یا اضافہ ممکن ہے، تاہم سرمایہ کاری کے فیصلوں میں محتاط تجزیہ ضروری ہے۔