اگر سعودی عرب ہمیں ساڑھے 5ہزار بھکاری پکڑ کر دے اور کہے یہ آپ کے لوگ ہیں تو ہم کیا کریں؟ طلال چوہدری پاکستان Roze News
پاکستان تازہ ترین

اگر سعودی عرب ہمیں ساڑھے 5ہزار بھکاری پکڑ کر دے اور کہے یہ آپ کے لوگ ہیں تو ہم کیا کریں؟ طلال چوہدری

اگر سعودی عرب ہمیں ساڑھے 5ہزار بھکاری پکڑ کر دے اور کہے یہ آپ کے لوگ ہیں تو ہم کیا کریں؟ طلال چوہدری

اگر سعودی عرب ہمیں ساڑھے 5ہزار بھکاری پکڑ کر دے اور کہے یہ آپ کے لوگ ہیں تو ہم کیا کریں؟ طلال چوہدری

طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب ہمیں اگر ساڑھے 5 ہزار بھکاری پکڑ کر دے اور کہے یہ آپ کےلوگ ہیں تو ہم کیا کریں؟۔ قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما اور وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے پاکستانیوں کو بیرون ملک سے ڈی پورٹ کیے جانے کے سوال پر کہا کہ ہمیں کسی کو ڈی پورٹ کرنے کا کوئی شوق نہیں، لیکن اگر سعودی عرب ہمیں اگر ساڑھے 5 ہزار بھکاری پکڑ کر دے اور کہے یہ آپ کےلوگ ہیں تو ہم کیا کریں؟

لوگ یہاں سے پاسپورٹ اور ویزے پر ہی جاتے ہیں لیکن آگے جا کر غائب ہو جاتے ہیں، پہلی مرتبہ بیرون ملک سفر کرنے والوں کیلئے سسٹم بنا رہے ہیں جس کے لیے تعاون کی ضرورت ہے۔

انہوں نے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال، سکیورٹی امور اور اپوزیشن کے رویے پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں قانون کی بالادستی قائم رکھی جائے گی اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث کسی بھی شخص کو کوئی رعایت نہیں ملے گی۔

انہوں نے سخت الفاظ میں مخصوص کرداروں کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پنکی کراچی کی ہو یا لاہور کی، جو غلط کام یا غلط کاروبار کرے گا، اسے اب نہیں چھوڑا جائے گا، کوئی ہیروئن بیچے یا ہیرے لے کر کام کرے، پاکستان میں قانون سے اوپر نہ ہی پنکی رہے گی اور نہ ہی کوئی پنک رہے گا۔

سینیٹر طلال چوہدری نے پی ٹی آئی کے ارکانِ قومی اسمبلی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ پی ٹی آئی کے ایم این ایز صبح کے وقت ایوان میں وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی پر کڑی تنقید کرتے ہیں اور شام کو انہی سے کام کروانے کے لیے ملاقات کا ٹائم مانگتے ہیں، یہ دہرا معیار میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ ملک میں بلٹ پروف اور اسمگل شدہ گاڑیوں کے استعمال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ بلٹ پروف گاڑیوں کے حوالے سے وفاق کی ایک واضح پالیسی موجود ہے، جس کے سخت قواعد و ضوابط کے تحت ہی اجازت دی جاتی ہے، کسی بھی ایسے شخص کو بلٹ پروف گاڑی نہیں دی جاتی جو اس کا غلط استعمال کرے، اگر ملک میں اسمگل شدہ اور غیر قانونی گاڑیاں چل رہی ہیں تو صوبائی حکومتیں ان کے خاتمے کے لیے ہماری مدد کریں۔

وفاقی دارالحکومت میں شہریوں کی سہولت اور سیکیورٹی کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے طلال چوہدری نے بتایا کہ عوامی شکایات اور سفری سہولت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اسلام آباد میں قائم 50 فیصد چیک پوسٹس کو اب مستقل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔

Exit mobile version