قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ کی منظوری دیدی پاکستان Roze News
پاکستان تازہ ترین

قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ کی منظوری دیدی

قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ کی منظوری دیدی

قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ کی منظوری دیدی

بجٹ منظوری کے بعد اجلاس کل صبح 11 بجے تک ملتوی کر دیا گیا، جبکہ حکومت نے معاشی ترقی، صنعتی نمو اور فی کس آمدنی میں اضافے کو اہم کامیابی قرار دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق بجٹ اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں اراکین اسمبلی نے بجٹ سے متعلق مختلف تجاویز اور ترامیم پر غور کے بعد بجٹ کی منظوری دی۔واضح رہے کہ 12 جون کو وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں 18 ہزار 771 ارب روپے سے زائد حجم کا وفاقی بجٹ پیش کیا تھا، جسے حکومت نے معاشی استحکام، ترقی اور عوامی ریلیف کے وژن کا عکاس قرار دیا تھا۔

بجٹ 2026-27 میں حکومت کی جانب سے تنخواہ دار طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے مختلف اقدامات تجویز کیے گئے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کے ساتھ ساتھ بعض شعبوں میں ٹیکس مراعات بھی شامل کی گئیں۔ حکومت نے سپر ٹیکس کے خاتمے اور جائیداد کی خرید و فروخت اور منتقلی پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی کی تجاویز بھی پیش کیں، جنہیں کاروباری اور تعمیراتی شعبے کے لیے مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

بجٹ تقریر کے دوران وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے ملکی معیشت کی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا تھا کہ رواں مالی سال کے دوران بڑے صنعتی شعبے (Large Scale Manufacturing) کی شرح نمو 6.1 فیصد رہی، جبکہ خدمات کے شعبے میں 4.1 فیصد ترقی ریکارڈ کی گئی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان کی معیشت کا مجموعی حجم 452 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جو ملکی اقتصادی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ وزیرِ خزانہ کے مطابق فی کس آمدنی بھی 1751 ڈالر سے بڑھ کر 1901 ڈالر ہو گئی ہے، جو معاشی بحالی اور استحکام کی جانب مثبت اشارہ ہے۔

حکومتی ارکان نے بجٹ کو عوام دوست اور معاشی ترقی کا ضامن قرار دیا، جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے بجٹ کے بعض نکات پر تحفظات کا اظہار کیا۔ تاہم بحث و مباحثے کے بعد قومی اسمبلی نے بجٹ کی منظوری دے دی۔

معاشی ماہرین کے مطابق بجٹ میں شامل اصلاحات، ٹیکس پالیسیوں اور ترقیاتی منصوبوں کے اثرات آنے والے مہینوں میں ملکی معیشت پر نمایاں طور پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

Exit mobile version