پاکستان کی اوپن مارکیٹ میں ایرانی ریال کی مانگ میں اچانک تیزی آنے سے اس کی قیمت یکدم بڑھ گئی ہے۔
بین الاقوامی سطح پر ایران سے متعلق حالیہ مثبت پیش رفت اور نئی ڈیل کی افواہوں کے بعد مقامی سرمایہ کاروں اور کاروباری حلقوں نے ریال کی خریداری شروع کر دی ہے جس کی وجہ سے مارکیٹ میںایرانی کرنسی کی دستیابی کم ہو گئی ہے۔
ڈیلرز کے مطابق طلب میں اس غیر معمولی اضافے نے ریال کے نرخوں کو نئی سطح پر پہنچا دیا ہے۔ اب مارکیٹ میں ایک کروڑ ایرانی ریال کی قیمت دس ہزار سے تیرہ ہزار روپے تک بولی جا رہی ہےجبکہ سرحدی تناؤ اور کشیدگی سے پہلے یہی مقدار محض پچیس سو سے تین ہزار روپے میں مل جاتی تھی۔
مارکیٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اچانک خریداری کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ ایک تو وہ خریدار ہیں جو مستقبل میں ریال مزید مہنگا ہونے کی امید پر اسے بطور سرمایہ محفوظ کر رہے ہیں، اور دوسرے وہ تاجر ہیں جو پاک ایران سرحد پر روزمرہ کے لین دین کے لیے اس کا استعمال کرتے ہیں۔
تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ عالمی حالات کے باعث قیمتوں میں یہ بڑا اتار چڑھاؤ کسی بھی وقت تاجروں اور عام خریداروں کے لیے مالی نقصان کا سبب بن سکتا ہےاس لیے موجودہ صورتحال میں محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
