اداکارہ مومنہ اقبال نے مبینہ ہراسانی، بلیک میلنگ اور کردار کشی کے خلاف اپنے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے پر سوشل میڈیا پر ایک انتہائی جذباتی بیان جاری کردیا۔ تفصیلات کے مطابق مومنہ اقبال نے اپنے آفیشل انسٹاگرام پر متعدد اسٹوریز شیئر کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ذہنی اذیت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ کبھی کبھی ان کا دل کرتا ہے کہ وہ خودکشی کرلیں، کیوں کہ مسلسل جھوٹی شکایات اور بدنام کرنے کی مہم کے باعث وہ اس وقت شدید ترین ذہنی صدمے سے گزر رہی ہیں۔
مومنہ اقبال نے اپنے اردگرد کے لوگوں کے مشوروں کو مسترد کرتے ہوئے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر لکھا کہ مجھے ہر کوئی مشورہ دے رہا ہے کہ میں ان لوگوں کا نام نہ لوں اور نہ ہی انہیں بے نقاب کروں، لیکن جو عذاب میں نے سالوں سے برداشت کیا ہے، میں نہیں چاہتی کہ کوئی دوسری عورت اس سے گزرے، میں ان لوگوں کے چہرے اس لیے شیئر کر رہی ہوں تاکہ دوسری خواتین ان جیسے افراد کے پاس اٹھتے بیٹھتے محتاط رہیں، یہ ان کی سوچ کی گندگی کو ظاہر کرتا ہے، اگر یہ آج کسی کو نقصان نہیں پہنچا رہے، تو کل یہ کسی اور کا مستقبل برباد کر سکتے ہیں۔
اداکارہ نے اپنی دوسری پوسٹ میں انتہائی مایوسی کا اظہار کیا اور لکھا کہ میں نے صرف اس وقت آواز اٹھائی جب میں اندر سے بالکل ٹوٹ چکی تھی اور تھک گئی تھی، مجھے ایسا کرنے پر مجبور کیا گیا کیونکہ میرے پاس اب کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا تھا، اب میری زندگی کا ہر دن سچائی ثابت کرنے کی جنگ میں گزر رہا ہے، کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کہ اس سب سے تو بہتر تھا کہ میں خودکشی ہی کرلیتی، اگر عزت کی زندگی نہیں مل رہی تھی، تو کم از کم مرنے کے بعد سکون تو مل جاتا، شاید تب جا کر مومنہ کو انصاف ملتا۔
خیال رہے کہ مومنہ اقبال نے اس تمام تر آن لائن ہراسانی اور دھمکیوں کے خلاف باقاعدہ قانونی راستہ اختیار کیا ہے، اداکارہ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن اتھارٹی این سی سی آئی اے سے رجوع کر رکھا ہے، جہاں انہوں نے حکمران جماعت کے رکنِ صوبائی اسمبلی ثاقب چدھڑ پر انہیں مسلسل ہراساں کرنے اور ڈرانے دھمکانے کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔
بتایا جارہا ہے کہ این سی سی آئی اے نے اداکارہ کی جانب سے اپنے اور اپنے خاندان کے خلاف مبینہ دھمکی آمیز پیغامات پر مشتمل ڈیجیٹل شواہد جمع کرانے کے بعد پیکا ایکٹ کی دفعات 3، 4، 21 اور 24 کے تحت پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 506، 201، 34 اور 109 کے ساتھ ملا کر ایک مقدمہ درج کیا، تاہم لاہور کی ایک عدالت نے تب سے انہیں عبوری قبل از گرفتاری ضمانت دے دی، جس کے تحت این سی سی آئی اے کو 24 جون تک انہیں گرفتار کرنے سے روک دیا گیا۔ مومنہ اقبال نے اس بات پر شدید مایوسی اور غصے کا اظہار کیا کہ جن ملزمان کو ایف آئی آر کے تحت مجرم پایا گیا تھا، انہیں عدالت سے ضمانت مل گئی، جس کے بعد وہ اب باہر آ کر ان کے اور ان کی فیملی کے لیے مزید خطرات اور نقصان کا باعث بن رہے ہیں۔
