عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں مسلسل پانچویں سیشن کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی بڑی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدے سے متعلق بڑھتی ہوئی امیدیں اور امریکی شرحِ سود میں اضافے کی کمزور ہوتی توقعات ہیں۔
بدھ کے روز اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.3 فیصد اضافے کے ساتھ 4,341.12 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی، جبکہ اگست ڈیلیوری کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز 0.2 فیصد اضافے کے بعد 4,361.10 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ ہوئے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان زیر غور عبوری معاہدہ تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے میں مدد دے گا۔ ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ معاہدے پر پیش رفت کے بعد ایران کو تیل برآمد کرنے کی اجازت بھی دی جا سکتی ہے۔
معاہدے کی خبروں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں تقریباً تین ماہ کی کم ترین سطح کے قریب رہیں، جس سے افراطِ زر کے دباؤ میں کمی کی توقع پیدا ہوئی ہے۔ اس صورتحال نے شرحِ سود میں مزید اضافے کی توقعات کو کمزور کر دیا ہے، جو سونے کی قیمتوں کے لیے معاون ثابت ہوا ہے۔
تجزیہ کار ایلیا اسپیواک کے مطابق تیل کی قیمتوں میں کمی نے مالیاتی سختی کے دباؤ کو کم کیا ہے، تاہم سونے کی قیمتوں میں حالیہ تیزی اب سست روی کا شکار دکھائی دے رہی ہے کیونکہ سرمایہ کاروں کی نظریں امریکی فیڈرل ریزرو کے آئندہ پالیسی فیصلے پر مرکوز ہیں۔
دوسری جانب سرمایہ کار فیڈرل ریزرو کے آج ہونے والے اجلاس کے نتائج کے منتظر ہیں، جہاں شرحِ سود کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
سی ایم ای فیڈ واچ ٹول کے مطابق دسمبر میں امریکی شرحِ سود میں اضافے کے امکانات کم ہو کر 59 فیصد رہ گئے ہیں، جو گزشتہ ہفتے تقریباً 70 فیصد تھے۔ ماہرین کے مطابق شرحِ سود کے فیصلے اور عالمی جغرافیائی حالات آنے والے دنوں میں سونے کی قیمتوں کے رجحان کا تعین کریں گے۔
