وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ کردیا، پنشن بھی 7 فیصد بڑھا دی گئی۔کم از کم ماہانہ اجرت میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔
قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب 18 ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش کررہے ہیں
تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں وفاقی بجٹ 27-2026 پیش کیا جارہا ہے ، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب بجٹ تقریر کر رہے ہیں۔
وفاقی وزیر خزانہ کا بجٹ تقریر کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اس ایوان کے سامنے بجٹ پیش کرنا میرے لیے اعزاز ہے،میں تمام سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈر کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
آج پوری دنیا پاکستان کی دفاعی طاقت کو مانتی ہے،بہت سارے ممالک ہمارے جیٹس اپنی افواج میں شامل کرنا چاہتے ہیں،پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ کا ذکر کرنا چاہتا ہوں،پاکستان کی جانب سے دشمن کو ایسا جواب ملا کہ دنیا کو نوٹس لینا پڑا،آج دنیا پاکستانی دفاعی قوت کی معترف ہے۔
پاک چین تعلقات ہماری خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہے،یہ دوستی ہمالیہ سے بلند، سمندر سے گہری اور شہد سے میٹھی ہے،چین پاکستان کا سب سے اہم تجارتی شراکت دار ہے۔یہ تعلق ایک ایسی اسٹریٹجک شراکت داری کی شکل اختیار کر چکا ہے،۔جو محض حکومتوں تک محدود نہیں بلکہ دو اقوام کے دلوں اور تقدیر سے جڑا ہوا رشتہ ہے۔
اب میں ایران امریکہ جنگ کے اثرات پر بات کرنا چاہوں گا۔اس جنگ کی وجہ سے پیٹرول اور ڈیزل کی بین الاقوامی منڈیوں میں قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہوا،ہر گھر کے بجٹ پر نیا اور غیر متوقع دباؤ آیا۔
یہ سمجھنا انتہائی اہم ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی مقامی قیمتیں عالمی منڈی کی پوری شدت کا اظہار نہیں تھیں،اگر حکومت اس جھٹکے کا پورا بوجھ عوام پر منتقل کر دیتی تو یہ قیمتیں اس سے کہیں زیادہ ہوتیں،اسی لیے وزیر اعظم پاکستان کی ہدایت پر حکومت نے ایک سو اٹھائیں ارب روپے کی عمومی سبسڈی کے ذریعے عوام کو براہ راست ریلیف دیا۔
پھر جلد ہی صوبائی حکومتوں کے تعاون سے ایک ٹارگٹڈ سبسڈیزکا نظام متعارف کرایا۔جس کے ذریعے ضرورت مند افراد کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریلیف دیا گیا اور ابھی بھی دیا جا رہا ہے۔
یہ موجودہ حکومت کا تیسرا بجٹ ہے،ہم نے یہ سفر ایک مشکل مقام سے شروع کیا۔وزیر اعظم پاکستان کی قیادت میں موجودہ حکومت نے انتھک محنت سے حالات پر قابو پایا ہے،کئی اہم اور دور رس نتائج کی حامل معاشی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
موجودہ مالی سال میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات اور امریکہ ایران جنگ کے باوجود ہماری معاشی شرح نمو 3.7 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ہماری بڑی صنعتوں کی پیداواری صلاحیت بڑھ رہی ہے۔
اس مالی سال میں لارج سکیل مینو فیکچرنگ کی شرح نمو 6.1 فیصد تک رہی ہے،خدمات کے شعبے میں 4.1 فیصد کی شرح نمو سامنے آئی ہے،ایل ایس ایم اور خدمات کے شعبوں کی شرح نمو پچھلے چار سالوں کی بلند ترین سطحوں پر ہے۔
ہماری معیشت کا حجم 452 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے جو ہماری معیشت کا ایک نیا سنگ میل ہے،جی ڈی پی کے حجم میں اضافے کی وجہ سے ہماری فی کس آمدن پچھلے سال کے 1751ڈالر سے بڑھ کر ایک ہزار نو سو ایک 1901 ڈالر ہوگئی ہے۔
پچھلے دو سالوں میں پالیسی ریٹ میں تاریخی کمی واقع ہوئی،یہ شرح بائیس فیصد 22 فیصد سے کم ہو کر ساڑھے گیارہ فیصد 11.5 فیصد پر آگئی ہے۔
ترسیلات زر بھی نئی بلندیوں کو چھو رہی ہیں۔پچھلے مالی سال کے 38 ارب ڈالر کے مقابلے میں اس مالی سال کے پہلے گیارہ 11 ماہ میں ترسیلات زر کا حجم ارتمیں 38 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔
سال بھر کی ترسیلات زر 41 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گی جو کہ ہماری تاریخ کی بلند ترین سطح ہوگی۔ایف بی آر کی ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح مالی سال 23-2022 میں 8.5 فیصد سے بڑھ کر 10.3 فیصد تک پہنچ چکی۔
صرف تین سالوں میں ملکی معیشت کے تناسب سے ٹیکسوں کی شرح میں تقریباً 2 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا ہے،ان اقدامات کے نتائج ہمارے مالیاتی استحکام میں بھی نمایاں نظر آتے ہیں۔
ہمارا مالیاتی خسارہ جون 2023ء میں جی ڈی پی کا 7.8 فیصد تھا جو موجودہ مالی سال کے اختتام تک 4 فیصد تک آ جائے گا،دو سال قبل ہمیں پرائمری بیلنس میں جی ڈی پی کے 0.7 فیصد کے برابر خسارہ در پیش تھا۔
موجودہ مالی سال میں ہم پرائمری بیلنس کو 1.6 فیصد کے سرپلس تک لے آئے ہیں،اس طرح پرائمری بیلنس میں GDP کے حساب سے 2.3 فیصد کی بہتری آئی ہے۔پچھلے مالی سال میں افراط زر کی شرح گزشتہ سال کی 23.4 سے کم ہو کر 4.5 فیصد تک آ گئی تھی۔
موجودہ سال کے دوران بھی ایران امریکہ جنگ کے باوجود بھی مہنگائی کی اوسط شرح تقريباً 7فیصدرہنے کی توقع ہے،جو کہ موجودہ مالی سال کے تخمینہ 7.5فیصد سے کم ہے۔حالیہ مہینوں میں افراط زر کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔جس کی بنیادی وجہ مشرق وسطی کی کشمکش ہے،جنگ کے بادل چھٹے تو مہنگائی کی شرح بھی کم ہو جائے گی۔
قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب 18 ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش کررہے ہیں
وفاقی بجٹ 27-2026 میں جائیداد منتقلی پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی کی تجویز ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کرتے ہوئے کہا کہ فائلرز کےلیے جائیداد خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس 2 اعشاریہ 5 فیصد سے کم کر کے 1 اعشاریہ 25 فیصد کرنے کی تجویز دی ہے۔
فائلرز کےلیے جائیداد فروخت پر ودہولڈنگ ٹیکس 5 اعشاریہ 5 سے کم کر کے 2 اعشاریہ 75 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
وفاقی بجٹ 27-2026 میں درآمد کی جانے والی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز دے دی گئی۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ درآمد کی جانے والی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2 سے 3 ہزار سی سی تک کی ایس یو ویز پر بھی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز ہے جبکہ 3 ہزار سی سی سے بڑی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کیا جارہا ہے۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ 2 کروڑ سے مہنگی الیکٹرک گاڑی پر بھی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نئی آٹو پالیسی وزیراعظم کی تشکیل کردہ کمیٹی کے زیر غور ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ الیکٹرک موٹر سائیکل، رکشوں اور بسوں پر موجودہ رعایتی نظام برقرار رہے گا۔ درآمد کیے جانے والے الیکٹرک ٹرکوں پر ایک فیصد سیلز ٹیکس سہولت کی تجویز ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بیرون ملک بزنس کلاس میں سفر پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کردی گئی ہے
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈز کے ذریعے بیرونِ ملک ادائیگیوں پر ود ہولڈنگ ٹیکس 0.5 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ غیر ملکی اثاثے رکھنے پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس ختم کرنے کی تجویز بھی ہے۔
قومی اسمبلی اجلاس کے دوران وفاقی بجٹ میں ٹیکس نظام میں مزید تبدیلیوں کی تجویز دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ غیر ملکی اثاثے رکھنے والوں پر عائد کیپیٹل ویلیو ٹیکس (سی وی ٹی) ختم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق یہ ٹیکس غیر ملکی اثاثوں کو ظاہر کرنے اور قانونی طور پر ڈکلیئر کرنے کی حوصلہ شکنی کا باعث بن رہا تھا۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ کیپیٹل ویلیو ٹیکس کے خاتمے سے ٹیکس دہندگان کو اپنے غیر ملکی اثاثے ظاہر کرنے کی ترغیب ملے گی اور ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھے گی۔
بجٹ 2026-27: بی آئی ایس پی کے دائرہ کار میں توسیع، مستحق خاندانوں کی تعداد ایک کروڑ 20 لاکھ تک پہنچانے کا اعلان پروگرام کے لیے 838 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ ہے
وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں سماجی تحفظ کے شعبے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے Benazir Income Support Programme (BISP) کے دائرہ کار میں نمایاں توسیع کا اعلان کیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق حکومت نے مستحق خاندانوں کی کفالت کے لیے بی آئی ایس پی کے تحت شامل خاندانوں کی تعداد ایک کروڑ 20 لاکھ تک بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس توسیع کے نتیجے میں تقریباً 92 لاکھ بچوں کو تعلیمی وظائف پروگرام سے فائدہ پہنچے گا۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے بی آئی ایس پی کے بجٹ میں بھی خاطر خواہ اضافہ تجویز کیا ہے۔ پروگرام کے لیے 838 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ ہے۔ حکام کے مطابق اضافی وسائل سے سماجی تحفظ کے منصوبوں کو مزید مؤثر بنایا جائے گا اور کم آمدنی والے طبقات کو ریلیف فراہم کیا جائے گا۔
دوسری جانب حکومت نے آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے بھی مالی معاونت میں اضافہ کیا ہے۔ بجٹ کے تحت آزاد جموں و کشمیر کے لیے 146 ارب روپے جبکہ گلگت بلتستان کے لیے 88 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
اسی طرح خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع کی ترقی اور انتظامی ضروریات کے لیے 95 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
دفاعی بجٹ میں 18 فیصد اضافہ، 3 ہزار ارب روپے مختص کرنے کی تجویز
وفاقی حکومت نے مالی سال 27-2026 کے بجٹ میں دفاعی اخراجات کیلئے 3 ہزار ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے۔یہ رقم گزشتہ سال، جب پاکستان نے بھارت کیساتھ مختصر مگر فیصلہ کن جنگ لڑی، کے 2 ہزار 550 ارب روپے کے دفاعی بجٹ کے مقابلے میں تقریباً 18 فیصد زیادہ ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کے آغاز میں بھی اسی جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اپنی دفاعی صلاحیت کا بھرپور مظاہرہ کیا، جسے عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ بجٹ ایک ایسے وقت میں پیش کیا جا رہا ہے جب پاکستان نے دنیا میں ایک مضبوط اور باوقار ملک کے طور پر اپنی شناخت قائم کی ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ برس بھارتی جارحیت کا جواب دیتے ہوئے پاکستانی مسلح افواج نے چند ہی گھنٹوں میں دشمن کو پسپائی پر مجبور کر دیا۔
وزیر خزانہ نے آپریشن “بنیان المرصوص” کو قومی تاریخ کا ایک اہم باب قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی برسوں کی پیشہ ورانہ تربیت اور تیاری کا نتیجہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج دنیا پاکستان کی دفاعی قوت کی معترف ہے اور کئی ممالک پاکستانی جنگی طیاروں میں دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ دفاعی صنعت اب قیمتی زرمبادلہ کمانے کا ذریعہ بھی بن رہی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مضبوط دفاع نہ صرف ملکی سلامتی بلکہ معاشی ترقی کیلئے بھی اہم ہے۔
دفاعی بجٹ کا اعلان کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ ملکی دفاع حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اسی تناظر میں 3 ہزار ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس کو مسلم لیگ ن کا بجٹ قرار دیتے ہوئے مسترد کیا اور کہا کہ یہ غریب دشمن اور اشرافیہ نواز بجٹ ہے جس میں امیروں کو ریلیف جبکہ عام آدمی پر بوجھ ڈالا جارہا ہے۔
شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ پی ٹی آئی نے پی ایم ایل این پر بجٹ 2026-2027 میں اعداد و شمار میں ہیرا پھیری کا الزام لگایا، بجٹ ایماندار ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے پر مبنی ہے، نہ کہ حقیقی اصلاحات پر مبنی ہے۔
انہوں نے فیس لیس آڈٹس کے ذریعے ایماندار کاروباریوں کو نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پی ایم ایل این کا بجٹ غریبوں کو صرف ٹکڑے دے رہا ہے جبکہ مراعات یافتہ طبقے کو فائدہ پہنچا رہا ہے۔
شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ گزشتہ تین سے چار بجٹ میں حکومت نے ہر ممکن ٹیکس عائد کر دیا ہے، حکومت نے اعداد و شمار میں صرف ہیرا پھیری کی ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ یہ بجٹ ایمانداروں کو سزا دے رہا ہے جبکہ بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری کو نظر انداز کر رہا ہے، پی ایم ایل این کا بجٹ دھوکا دہی اور عوام دشمن ہے اس لیے اسے مسترد کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے دوران پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی نے اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ اور شدید احتجاج کیا جبکہ دستاویز کی کاپیاں پھاڑ کر بھی پھینکیں، اس کے علاوہ وزیرخزانہ کی تقریر کے دوران بائیکاٹ کیا۔
بجٹ 27-2026: الیکٹرک موٹرسائیکل، رکشوں، گاڑیوں پر رعایت کتنی ہے؟
وفاقی وزیر محمد اورنگزیب نے کہا کہ الیکٹرک موٹرسائیکل، رکشوں، گاڑیوں بس پر موجود رعایت کو برقرار رکھا گیا ہے۔
قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ درآمدی الیکٹرک ٹرکوں پر سیلز ٹیکس کی شرح ایک فیصد کم ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ 2 ہزار سے 3 ہزار سی سی تک تمام پیٹرول اور ڈیزل گاڑیوں پر ایف ای ڈی عائد کی گئی ہے جبکہ 2 کروڑ سے زائد مالیت کی الیکٹرک گاڑیوں پر بھی ایف ای ڈی کا اطلاق ہوگا۔
بجٹ دستاویز کے مطابق وفاقی بجٹ کا مجموعی حجم 18ہزار 771ارب روپے ہوگا،سود کی ادائیگی پر 8ہزار 54ارب روپے مختص کرنے، پینشن پر مجموعی طور پر 1169ارب روپے خرچ کرنے کا تخمینہ ہے جس میں ملٹری پینشن پر 822ارب روپے خرچ کرنے جبکہ سول پینشن پر 272ارب روپے خرچ کرنے کا تخمینہ ہے۔
دفاع کے لیے 3ہزار ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ ہے جبکہ سبسڈی کی مد میں 1091ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ ہے۔
بجٹ دستاویز کے مطابق سول حکومت پر اخراجات کا تخمینہ 1071ارب روپے خرچ کرنے کا تخمینہ ہے جبکہ ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے 430ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ ہے، مجموعی طور پر جاری اخراجات 17ہزار 495ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ ہے۔
بجٹ دستاویز کے مطابق وفاقی ترقیاتی بجٹ کا حجم 1050ارب ہوگا جبکہ ایف بی آر کا ٹیکس وصولی کا ہدف 15ہزار264ارب روپے رہنے کا تخمینہ ہے۔
وفاقی ترقیاتی پروگرام 2026-27 کے تحت عوامی صحت کی دیکھ بھال کو ایک اہم قومی ترجیح قرار دیتے ہوئے بجٹ میں صحت کے شعبے کے لیے 25.1 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
اس فنڈنگ کے تحت ملک میں ٹرشری ہیلتھ کیئر سہولیات کو وسعت دینے، ہنگامی اور کریٹیکل کیئر نظام کو مضبوط بنانے اور کینسر کے علاج کی جدید سہولیات کو بہتر کرنے کے منصوبے شامل ہیں۔
پروگرام میں بیماریوں کی نگرانی کے مربوط نظام کی بہتری اور تشخیصی و ریگولیٹری ڈھانچے کی جدید کاری کو بھی ترجیح دی گئی ہے تاکہ صحت کے شعبے میں مجموعی کارکردگی اور رسائی کو بہتر بنایا جا سکے۔
وفاقی ترقیاتی پروگرام 2026-27 کے تحت اعلیٰ تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی اور تعلیمی شعبے کی بہتری کے لیے اہم فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔
اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے شعبے کو ملک کی معاشی اور سماجی ترقی کے لیے ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے اس شعبے کے لیے 46 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جو گزشتہ سال کے 34.9 ارب روپے کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔
اس رقم سے مستحق طلبہ کے لیے وظائف، یونیورسٹیوں کی تحقیقی صلاحیت میں اضافہ، پاکستان ایجوکیشن اینڈ ریسرچ نیٹ ورک کی اپ گریڈیشن، ڈیجیٹل لرننگ کا فروغ اور مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی تعلیمی نظام کو بہتر بنانے جیسے اقدامات شامل ہیں۔
سائنس و ٹیکنالوجی
سائنس اور ٹیکنالوجی کے لیے علیحدہ 3.6 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جن کے ذریعے ٹیکنالوجی کی منتقلی، چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs)، قابل تجدید توانائی، الیکٹرانکس، زراعت اور صحت کے شعبوں میں تکنیکی ترقی کو فروغ دیا جائے گا۔
بنیادی تعلیم
بنیادی تعلیم، کالج تعلیم اور ہنرمندی کے فروغ کے لیے بھی اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔ وزیراعظم کے وژن کے مطابق تعلیم کے مواقع معاشرے کے محروم طبقات تک پہنچانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، جس کی نمایاں مثال دانش اسکولز ہیں، جو باصلاحیت مگر کم وسائل رکھنے والے بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کر رہے ہیں۔
وفاقی ترقیاتی بجٹ میں دانش اسکولز کے لیے تقریباً 22 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ مجموعی طور پر اسکول اور کالج کی تعلیم کے لیے 26.3 ارب روپے رکھے گئے ہیں، جن سے اساتذہ کی تربیت، داخلوں میں اضافہ، ابتدائی بچپن کی تعلیم کی توسیع اور ڈیجیٹل لرننگ کو فروغ دیا جائے گا۔
اسی طرح نوجوانوں کی ہنرمندی اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے NAVTTC کے تحت وزیراعظم یوتھ اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 7.9 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں تاکہ نوجوانوں کو جدید دور کی معیشت کے مطابق ہنر فراہم کیا جا سکے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ سفید اسپرٹ اور منرل تارپین آئل پر 80 روپے فی لیٹر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کر رہے ہیں۔
قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کرتے ہوئے وزیرخزانہ نے کہا کہ یہ اشیاء پیٹرولیم ڈیویلپمنٹ لیوی کے دائرہ سے باہر آتی ہیں، ان اشیاء کو تیل میں ملاوٹ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس ملاوٹ کی وجہ سے ہر سال لاکھوں صارفین کی گاڑیاں اور مشینری خراب ہوتی ہیں۔
