عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کی بڑی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے بعد ایران اور اسرائیل کی جانب سے ایک دوسرے پر حملے روکنے کے اعلانات کو قرار دیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق کشیدگی میں وقتی کمی کے بعد عالمی تیل مارکیٹ کو ریلیف ملا، جس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 93 ڈالر فی بیرل کے قریب آ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 91 ڈالر فی بیرل سے نیچے ٹریڈ کرتا رہا۔
ماہرین کے مطابق حالیہ پیش رفت نے عالمی منڈیوں میں پائے جانے والے خدشات کو وقتی طور پر کم کیا ہے، تاہم سرمایہ کار اب بھی خطے کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں دوبارہ فوجی کشیدگی یا تصادم کی صورتحال پیدا ہوئی تو خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ عالمی تیل سپلائی کا ایک اہم مرکز ہے، اس لیے خطے میں پائیدار امن کے بغیر توانائی کی عالمی منڈی مکمل طور پر مطمئن نہیں ہو سکتی۔ کسی بھی نئی کشیدگی کے اثرات نہ صرف تیل کی قیمتوں بلکہ عالمی معیشت پر بھی براہِ راست مرتب ہو سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔ برینٹ کروڈ آئل 3.4 فیصد اضافے کے بعد 96.50 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا تھا، جبکہ امریکی خام تیل (WTI) 3 فیصد اضافے کے ساتھ 93.75 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا تھا۔
