اگر 6 ماہ مزید بھی عمران خان کی ملاقاتیں نہ کروائیں تو وہ نہیں ٹوٹے گا، یہ بات اپنے ذہن سے نکال دیں کہ وہ ایسی چیزوں سے ڈر جائے گا؛ تحریک تحفظِ آئینِ پاکستان کے رہنماء کی میڈیا سے گفتگو
تحریک تحفظِ آئینِ پاکستان کے رہنماء مصطفیٰ نواز کھوکھر کا کہنا ہے کہ یہ لوگ عمران خان کو نہیں توڑسکتے، حکومت تو یہ سوچنا ہی چھوڑ دے۔ تفصیلات کے مطابق پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظِ آئینِ پاکستان کا ایک انتہائی اہم اور ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں گلگت بلتستان کے حالیہ انتخابات، آزاد کشمیر کی کشیدہ صورتحال اور عمران خان سمیت دیگر سیاسی اسیران کی قید اور ان سے ملاقاتوں پر پابندی کے معاملات پر تفصیلی غور کیا گیا، اپوزیشن نے جی بی کے انتخابی نتائج کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں سلیکشن قرار دے دیا۔
بتایا گیا ہے کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن اتحاد کے اس ہنگامی اجلاس میں اہم ترین سیاسی قیادت نے شرکت کی، اجلاس میں تحریک تحفظِ آئینِ پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی، مجلس وحدتِ مسلمین کے سربراہ علامہ ناصر عباس، سابق سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر اور اخوانزادہ حسین یوسفزئی شریک ہوئے، پاکستان تحریکِ انصاف کے مرکزی رہنما اور قومی اسمبلی کے سابق سپیکر اسد قیصر نے بھی اجلاس میں خصوصی شرکت کی، جہاں بنیادی طور پر جی بی انتخابات کے نتائج اور مستقبل کی حکمتِ عملی پر مشاورت کی گئی۔
،مصطفیٰ نواز کھوکھر نے مزید گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان الیکشن 8 فروری کا ری پلے تھا ، یہ سلیکشن پراسس تھا الیکشن نہیں
