عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے باعث توانائی کی عالمی مارکیٹوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
بین الاقوامی تجارتی اعداد و شمار کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً ایک فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد اس کی قیمت 97 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ اسی طرح ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل بھی مہنگا ہو گیا ہے اور اس کی قیمت بڑھ کر 95 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق متحدہ عرب امارات کے مربن خام تیل کی فی بیرل قیمت بھی 96 ڈالر تک جا پہنچی ہے، جو عالمی توانائی مارکیٹ میں بڑھتے ہوئے دباؤ کی عکاسی کرتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کی بڑی وجوہات مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدہ صورتحال، تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات اور عالمی سطح پر توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب ہیں۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ برقرار رہا تو دنیا کے مختلف ممالک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور مہنگائی کی شرح پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
