جاپان نے 20 سال کے بعد بھارتی آموں پر ایک بار پھر پابندی عائد کر دی۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق جاپان نے جائزے کے دوران فصلوں کو محفوظ رکھنے کے لیے کیڑوں پر قابو پانے کے بھارتی طریقہ کار میں خامیاں سامنے آنے کے بعد بھارت سے آموں کی درآمد معطل کر دی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جاپان کے اس اقدام سے آم کے اہم سیزن کے دوران آموں کی پریمیئم بھارتی اقسام جیسے کہ الفانسو، کیسر، لنگڑا اور بنگناپلی کی برآمدات متاثر ہوئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جاپان ہر سال برآمدی سیزن سے پہلے ویپر ہیٹ ٹریٹمنٹ (وی ایچ ٹی) مراکز کا انسپیکشن کرنے کے لیے اپنی ایک ٹیم کو بھارت بھیجتا ہے، یہ مراکز آم کو برآمد کرنے سے پہلے جراثیم سے پاک کرنے کے ذمے دار ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وی ایچ ٹی ایک غیر کیمیاوی عمل ہے جس میں کیڑوں اور مکھیوں کے لاروا کو مارنے کے لیے آموں کو گرم اور مرطوب ہوا کے کنٹرول میں رکھا جاتا ہے، بھارت اور جاپان کے درمیان برآمدی معاہدے کے تحت یہ ایک انتہائی اہم اور ضروری عمل ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس سال کا انسپیکشن مارچ میں بھارتی شہر لکھنؤ میں کیا گیا تھا، جہاں جاپانی حکام کو فیومیگیشن اور جراثیم کش طریقہ کار سے متعلق خامیاں ملیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انسپیکشن کے دوران جاپانی حکام کو کیا خامیاں نظر آئیں اس حوالے سے بھارتی یا جاپانی حکام نے تفصیلات نہیں بتائیں۔
رپورٹ کے مطابق جاپان کی یوکوہاما پلانٹ پروٹیکشن ایسوسی ایشن نے اس انسپیکشن کے بعد اعلان کیا کہ اب بھارتی آموں کی ترسیل کو مزید قبول نہیں کیا جائے گا۔
