وفاقی حکومت اور عالمی مالیاتی فنڈ کے درمیان جاری بجٹ مذاکرات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی ماہانہ مالی امداد میں اضافے پر اصولی اتفاق کر لیا گیا ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق پاکستان میں موجود عالمی مالیاتی فنڈ کا مشن اپنے دورے میں توسیع کرتے ہوئے مزید دو روز تک پاکستان میں قیام کرے گا،مشن آئندہ مالی سال کے بجٹ کو حتمی شکل دینے کے لیے حکومت کے ساتھ تفصیلی مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے۔
اطلاعات کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے تاہم کچھ امور پر بات چیت ابھی جاری ہے،ابتدائی طور پر بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی ماہانہ امداد 14ہزار 5سو روپے سے بڑھا کر18ہزار روپے کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے، تاکہ کم آمدنی والے خاندانوں کو مہنگائی کے اثرات سے کچھ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق مالیاتی ڈھانچے کے حوالے سے بھی اہم فیصلے زیر غور ہیں۔ پٹرولیم لیوی میں اضافہ، ٹیکس وصولیوں کے اہداف میں نمایاں اضافہ، اور صوبوں سے اضافی ریونیو جمع کرنے کے مطالبات شامل ہیں اسی طرح وفاقی سطح پر بھی آئندہ مالی سال کے لیے ٹیکس اہداف میں بڑا اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔
مختلف شعبوں جیسے چینی، سیمنٹ، تمباکو اور کھاد سے اضافی آمدن حاصل کرنے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے، دفاعی بجٹ اور ترقیاتی پروگرام میں اضافے جبکہ قرضوں پر سود کی ادائیگیوں میں مزید اضافہ متوقع ہے، جو ملکی مالی دباؤ کو ظاہر کرتا ہے۔
آئندہ مالی سال میں مہنگائی کی اوسط شرح آٹھ اعشاریہ چار فیصد رہنے اور معاشی ترقی کی شرح تین اعشاریہ پانچ فیصد تک رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ گیس اور بجلی کی قیمتوں میں سال میں دو مرتبہ اضافے کی شرط بھی برقرار رکھی گئی ہے۔
یہ مذاکرات پاکستان کی معاشی سمت کے تعین میں اہم کردار ادا کریں گے، جبکہ ان فیصلوں کے اثرات براہ راست عام شہری کی زندگی اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر پڑ سکتے ہیں۔