اٹلی نے غزہ امداد لے جانے والے قافلے صمود فلوٹیلا کے گرفتار ارکان سے برے سلوک پر اسرائیلی سفیر کو طلب کرلیا۔
اطالوی حکومت کے مطابق غزہ امداد لے جانے والے قافلے کے گرفتار ارکان کے ساتھ اسرائیل کا رویہ ناقابل قبول ہے، اس معاملے پر وضاحت کیلئے اسرائیلی سفیر کو طلب کیا ہے۔
اطالوی وزیراعظم جورجیا میلونی اور وزیر خارجہ انتونیو تجانی نے ایک مشترکہ بیان میں واقعے کی سخت مذمت کی اور کہا ہے کہ اٹلی فلوٹیلا ارکان کے ساتھ اسرائیل کے برے سلوک پر معافی کا مطالبہ کرتا ہے۔
انہوں نے اسرائیلی کارروائی کو اطالوی حکومت کی درخواستوں کی بے عزتی قرار دیا۔
گرفتار رضاکاروں کیساتھ انسانیت سوز سلوک؛ اسرائیلی وزیر کی ہتک آمیز ویڈیو وائرل
اسرائیلی فورسز نے امدادی قافلے صمود فلوٹیلا کے 430 رضاکاروں کو بین الاقوامی پانیوں سے گرفتار کیا تھا
اسرائیلی ناکہ بندی کو توڑتے ہوئے غزہ امدادی سامان پہنچانے کی کوشش کرنے والے بحری قافلے صمود فوٹیلا کے رضاکاروں کو صیہونی فورسز نے حراست میں لے لیا تھا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امدادی رضاکاروں کو بین الاقوامی پانیوں پر گرفتار کرنے کے بعد جنگی قیدیوں کی طرح اسرائیل پہنچادیا گیا۔
اسرائیل کی قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بین گویر نے جیل کا دورہ کیا اور انھوں نے وہاں نہ صرف ویڈیوز بنائیں بلکہ رعونت بھرے لہجے میں دھمکیاں بھی دی۔
انتہا پسند اسرائیلی وزیر نے یہ ویڈیوز سوشل میڈیا پر جاری کیں جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ متعدد رضاکاروں کے ہاتھ پشت پر بندھے ہوئے ہیں اور انہیں گھٹنوں کے بل جھکایا گیا ہے۔
ایک ویڈیو میں ایتمار بن گویر اسرائیلی پرچم لہراتے ہوئے زیرِ حراست رضاکاروں سے کہتا ہے کہ اسرائیل میں خوش آمدید، یہاں ہم مالک ہیں۔
