پاکستان تازہ ترین

جسم مفلوج مگر حوصلہ آسمان کو چھو گیا! نہ ہاتھ چلتے ہیں، نہ جسم ساتھ دیتا ہے، مگر فیضان اللہ نے 93 فیصد نمبر لے کر شاندار کامیابی حاصل کی

جسم مفلوج مگر حوصلہ آسمان کو چھو گیا! نہ ہاتھ چلتے ہیں، نہ جسم ساتھ دیتا ہے، مگر فیضان اللہ نے 93 فیصد نمبر لے کر شاندار کامیابی حاصل کی

 یہ دنیا ان ہی کی ہے جو معذوری کو مجبوری نہیں بننے دیتے جسمانی معذور نوجوان نے منہ میں قلم پکڑ کر بورڈ کا امتحان دیا۔

دنیا میں کئی ایسی مثالیں ہیں، جنہوں نے اپنی معذوری کو مجبوری بنانے کے بجائے ہمت بنایا اور پھر ایسے کارہائے نمایاں انجام دیے، جس نے پوری دنیا کو ان کا گرویدہ بنایا اور وہ آنے والی نسلوں کے لیے ہمت اور استقلال کی مثال بن گئے۔

ایسا ہی ایک طالب علم فیضان اللہ ہے، جس نے پیدائشی بیماری سیریبرل پالسی (اس میں انسان کے جسمانی اعضا مکمل ہوتے ہیں، مگر وہ انہیں حرکت نہیں دے سکتا) کے باوجود ہمت نہ ہاری اور بورڈ کا امتحان دے کر نمایاں کامیابی حاصل کی۔

عزم وہمت کی یہ مثال نوجوان طالبعلم بھارتی ریاست جھارکھنڈ کے ضلع گوڈا کا رہائشی ہے، جس کے والد محمد انور عالم ایک خانگی مدرسے میں تدریسی خدمات انجام دیتے ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق فیضان اللہ کی پیدائش کے کچھ ہی عرصے بعد والدین کو اندازہ ہو گیا تھا کہ اس بچے کی نشوونما عام بچوں سے مختلف ہے۔

جب 6 ماہ کی عمر میں فیضان کی جسمانی حرکتیں اس عمر کے بچوں کی نسبت بہت محدود نظر آئیں تو والدین نے ڈاکٹروں سے رجوع کیا، جہاں یہ روح فرسا انکشاف ہوا کہ ان کا بچہ سیریبرل پالسی کا شکار ہیں۔

تاہم والدین نے ہمت کے ساتھ اپنے بیٹے کو زندگی میں آگے بڑھانے کے لیے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے بیٹے کو ہر ممکن تعلیم دیں گے۔ اس کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہی شروع ہوئی۔

والد نے خود انہیں اردو، ہندی، انگریزی، عربی اور ریاضی کی بنیادی تعلیم دی۔ گھر میں ابتدائی تعلیم کے بعد فیضان کا کا داخلہ ایک مقامی اسکول میں کرایا۔

فیضان کیونکہ ہاتھوں کو جنبش نہیں دے سکتا تھا تو اس کے استاد جتیندر کمار بھگت اسکی صلاحیت دنیا کے سامنے لانے کے لیے مختلف طریقے آزمائے اور آخرکار ایک انوکھا حل نکالتے ہوئے قلم کو اس کے منہ کے ذریعے استعمال کروانا سکھایا۔

اس نے نصابی کے ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لینا شروع کیا اور آٹھویں جماعت میں اپنے اسکول میں ٹاپ کرنے کے بعد ضلع سطح پر تقریری مقابلے میں کامیابی حاصل کر کے لیپ ٹاپ جیتا۔

ٹیکنالوجی سے دلچسپی نے فیضان کی دنیا بدل دی۔ طالبعلم نے کمپیوٹر، ایم ایس آفس، اور یہاں تک کہ مصنوعی ذہانت کے بنیادی استعمال کو سیکھا۔

وہ اپنی پڑھائی کے لیے ڈیجیٹل کتابوں کا استعمال کرتے ہوئے مسلسل پریکٹس کے ذریعے اپنی صلاحیتیں بڑھاتا رہا۔ بورڈ امتحان میں لکھنے کے لیے معاون (رائٹر) کی سہولت حاصل ہونے کے باوجود زیادہ تر پرچے خود حل کیے۔

مسلسل محنت کا نتیجہ یہ نکلا کہ فیضان نے بورڈ کا امتحان 93 فیصد نمبر لے کر شاندار کامیابی حاصل کر کے سب کو حیران کر دیا۔

Leave feedback about this

  • Quality
  • Price
  • Service

PROS

+
Add Field

CONS

+
Add Field
Choose Image