وفاقی وزیرِ ریلوے حنیف عباسی سے پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم نے ملاقات کی ہے جس میں دونوں ممالک کے درمیان ریلوے روابط کو مزید وسعت دینے اور پرانے روٹس کی بحالی پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں پاکستان اور ایران نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں تجارت اور عوامی رابطوں کو فروغ دینے کیلئے ریلوے نظام کو مؤثر اور فعال بنانا ناگزیر ہے۔ اس موقع پر دونوں ممالک نے برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔
اہم ریلوے روٹس پر پیش رفت
ذرائع کے مطابق ملاقات میں خاص طور پر تین اہم ریلوے روٹس پر بات چیت کی گئی جس پر آگے چل کر عملی پیش رفت ہوگی
کوئٹہ تا تفتان ریلوے سیکشن
اس روٹ کی فوری مرمت اور بحالی پر اتفاق کیا گیا ہے، جو پاکستان کو ایران کی سرحد سے جوڑتا ہے۔ یہ روٹ بحالی کے بعد مسافر اور مال بردار دونوں ٹرینوں کیلئے استعمال ہوگا۔
تفتان تا زاہدان ریلوے روٹ
پاکستان اور ایران کے درمیان براہِ راست رابطے کیلئے یہ روٹ انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے، جس کی مرحلہ وار بحالی اور آپریشنل تیاریوں پر بھی غور کیا گیا۔
اسلام آباد تا تہران تا استنبول فریٹ ٹرین منصوبہ
اس بین الاقوامی کارگو روٹ پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی جس کے تحت پاکستان، ایران اور ترکی کے درمیان تجارتی سامان کی ترسیل کو ریلوے کے ذریعے ممکن بنایا جائے گا۔
پہلے مرحلے میں کیا بحال ہوگا؟
حکام کے مطابق ابتدائی مرحلے میں کوئٹہ،تفتان سیکشن کی بحالی کو ترجیح دی جائے گی کیونکہ یہ ایران سے زمینی ریلوے رابطے کا بنیادی دروازہ ہے۔ اس کے بعد مرحلہ وار تفتان ۔زاہدان روٹ کو فعال کیا جائے گا جبکہ بین الاقوامی فریٹ ٹرین منصوبہ تیاری کے آخری مراحل میں ہے۔
سیکیورٹی اور انفراسٹرکچر
ملاقات میں ریلوے انفراسٹرکچر کی بہتری، ٹریک کی مرمت اور سیکیورٹی انتظامات کو بھی اہم قرار دیا گیا۔ دونوں فریقین نے اس بات پر زور دیا کہ ریلوے آپریشنز کے تسلسل کیلئے سرحدی علاقوں میں مؤثر سیکیورٹی ناگزیر ہے۔
خطے کی صورتحال پر گفتگو
اس موقع پر مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ پاکستان نے خطے میں امن اور سفارتی حل کی حمایت کا اعادہ کیا جبکہ ایرانی سفیر نے پاکستان کی امن کوششوں کو سراہا۔
ریلوے حکام کے مطابق پاکستان اور ایران کے درمیان ریلوے رابطوں کی بحالی سے نہ صرف تجارت بڑھے گی بلکہ عوامی سطح پر بھی دونوں ممالک کے درمیان روابط مزید مضبوط ہوں گے۔