مردان میں ماربل کی کان میں پیش آنے والے لینڈ سلائیڈنگ کے واقعے میں 17 روز بعد ایک مزدور کا زندہ نکل آنا کسی معجزے سے کم نہیں۔
31 مارچ کو مردان کے علاقے پلوڈھیری میں ماربل کی کان میں کام کرنے والے مزدوروں پر قیامت ٹوٹ پڑی، جب لینڈ سلائیڈنگ کے باعث پہاڑ سے بڑے بڑے پتھر گرنے لگے، اس افسوسناک واقعے میں 8 مزدور ملبے تلے دب کر جاں بحق جبکہ 3 زخمی ہو گئے اور ایک مزدور لاپتہ ہو گیا تھا۔
ریسکیو 1122 کی ٹیموں نے 8 جاں بحق اور زخمی مزدوروں کو پہلے ہی دن نکال لیا تاہم لاپتہ مزدور کی تلاش کیلئے طویل اور صبر آزما آپریشن جاری رکھا گیا اور بالآخر 16 اپریل کو 17 دن بعد سرنگ میں پھنسے اس مزدور کو زندہ حالت میں نکال لیا گیا جس نے نہ صرف اہلِ علاقہ بلکہ پوری دنیا کو حیرت میں ڈال دیا۔
مہمند کے اس بہادر مزدور عبدالوہاب نے کان میں 17 روز تک پھنسے رہنے کی لمہ بہ لمحہ داستان خود صحافیوں کو بتا دی۔
مزدور نے بتایاکہ یہ واقعہ جس وقت پیش آیا عصر کے ساڑھے چار بجے تھے، میں اس وقت بے ہوشی کی حالت میں بالکل نہیں تھا، پھنس گیا تو میں نے ہمت نہیں ہاری بالکل ریلیکس اور ٹھیک تھا۔
انہوں نے بتایاکہ میں 17 دن اس ملبے کے نیچے تھا، چیلنج تو تھے مگر میں نے ہار نہیں مانی اور میں یہ سوچ رہا تھا کہ انشا اللہ اس جگہ سے صحیح سلامت نکلوں گا، مجھ پر ایک سیکنڈ کیلئے بھی بے ہوشی کی حالت نہیں آئی۔
ان کا کہنا تھاکہ میں نے پانچ وقت کی نماز پڑھی، مجھے یہ پتہ نہیں تھا کہ یہ دن ہے یا رات لیکن نماز پڑھتا تھا اور میں نے اپنے لیے ایک ٹارگٹ سیٹ کیا تھا، مطلب فجر کی نماز میرا ایک ٹارگٹ تھا اور دوسری نمازیں دل کی تسلی پر پڑھتا تھا جبکہ میں نے نوافل بھی پڑھے اور ذکر بھی کیا تھا۔
جان بچانے کے حوالے سے عبدالوہاب کا کہنا تھاکہ میرے پاس صرف اور صرف پانی کا سسٹم تھا اور وہ بھی بارش کا پانی تھا کیونکہ جس جگہ پر ہم کام کرتے تھے اس جگہ پر پانی کی بوندیں آتی تھیں، بارش ہوئی تھی جس سے پانی کی جو مقدار تھی وہ بڑھ گئی تھی اور روٹی کا تو کوئی چانس نہیں تھا۔
ان لمحوں کو یاد کرتے ہوئے معجزانہ طور پر بچ جانے والے مزدور کا کہنا تھاکہ گھر والے ایسے ہوتے ہیں جن کے ساتھ زندگی گزرتی ہے، ماں بھی یاد آتی تھی اورباپ بھی ، والدہ یاد آئیں تومیں رویا بھی تھا کیونکہ ان دنوں وہ بیمار تھی اور اسپتال میں زیر علاج تھیں، بس میں سوچ رہا تھا کہ ان کا علاج ہو جائے۔
ان کا مزید کہنا تھاکہ میں نے ہمت اور امید کا ساتھ نہیں چھوڑا، میں خود سے کہتا تھا کہ انشا اللہ 10 دن بعد، 20 دن بعد، مہینہ بعد صحیح سلامت نکلوں گا، میں جس وقت اس جگہ سے نکلنے والا تھا میں نے آوازیں دیں اورمیری آوازیں اللہ نے ریسکیو کے لوگوں تک پہنچائیں۔
انہوں نے بتایاکہ جب اس جگہ سے نکالا گیا تو اس وقت میں بالکل نارمل تھا، میں جس جگہ میں رہ رہا تھا تھا وہاں پر چلنے پھرنے کی جگہ نہیں تھی، میں صرف اور صرف وضو کیلئے نکلتا تھا، میرے پاس پانی زیادہ ہوتا تو میں وضو کرتا۔
عبدالوہاب کا کہنا تھاکہ ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتا وہ جگہ بہت خطرناک تھی، اس جگہ بار بار میں اٹھ سکتا تھا کبھی کبھی میں چکر لگاتا، میرے پاس جگہ کم تھی پاؤں میں کمزوری نہ ہو اور پاؤں رک نہ جائیں اس لیے میں چلتا پھرتا تھا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ یہ کام بہت سخت ہے اور ٹھیکیدار کو مزدوروں کا خیال رکھنا چاہیے۔
مردان میں ماربل کی کان میں 17 دن تک پھنسے رہنے والے مزدور عبدالوہاب نے داستان سنادی۔
عبدالوہاب کی 17 دن میں بارش نے کیسے مدد کی؟ اس دوران ماں کی یاد آئی تو کیا ہوا؟ کان میں وضو کیسے کرتا رہا،نماز کے اوقات کا کیسے اندازہ ہوتا تھا؟ مزدور کو ماربل کی کان سے جس دن ریسکیو کیا گیا تب کیا ہوا؟ مہمند کے اس بہادر مزدور کی کان میں 17 روز تک پھنسے رہنے کی لمہ بہ لمحہ داستان میڈیا کے سامنے لے آیا۔
عبدالوہاب نے بتایا کہ یہ واقعہ جس وقت پیش آیا تھا، عصر کے ساڑھے چار بجے تھے، پس منظر مجھے سب یاد ہے، میں اس وقت بےہوشی کی حالت میں بالکل نہیں تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں کان میں پھنس گیا تو میں نے ہمت نہیں ہاری بالکل ریلیکس اور ٹھیک تھا، میں 17 دن اس ملبے کے نیچے تھا، چیلنج تو تھے مگر میں نے ہار نہیں مانی۔
عبدالوہاب نے یہ بھی بتایا کہ میں یہ سوچ رہا تھا کہ انشاء اللّٰہ اس جگہ سے صحیح سلامت نکلوں گا، مجھ پر ایک سیکنڈ کے لئے بھی بےہوشی کی حالت نہیں آئی، میں نے 5 وقت کی نماز پڑھی۔
اُن کا کہنا تھا کہ مجھے یہ پتہ نہیں تھا کہ یہ دن ہے یا رات لیکن نماز پڑھتا تھا، میں نے اپنے لیے ایک ٹارگٹ سیٹ کیا تھا، مطلب فجر کی نماز میرا ایک ٹارگٹ تھا، دوسری نمازیں دل کی تسلی پر پڑھتا تھا، میں نے اس دوران نوافل بھی پڑھے اور ذکر بھی کیا۔
عبدالوہاب نے بتایا کہ میرے پاس صرف اور صرف پانی کا سسٹم تھا بارش کا پانی، جس جگہ پر ہم کام کرتے تھے اس جگہ پر پانی کی بوندیں آتی تھیں، بارش ہوئی تھی، جس سے پانی کی جو مقدار تھی، وہ بڑھ گئی تھی اور روٹی کا تو کوئی چانس نہیں تھا۔
انہوں نے بتایا کہ میرے لئے سب لوگ محترم ہیں، گھر والے ایسے ہوتے ہیں، جن کے ساتھ زندگی گزرتی ہے، ماں بھی یاد آتی تھی باپ بھی یاد آتا تھا، میں رویا بھی تھا جب ماں یاد آئی۔
میری ماں ان دنوں بیمار تھی، ماں اسپتال میں علاج کے لیے تھی، میں سوچ رہا تھا کہ ان کا علاج ہو جائے۔
عبدالوہاب نے کہا کہ میں نے اس دوران ہمت اور امید کا ساتھ نہیں چھوڑا، میں کہتا تھا کہ انشاء اللّٰہ 10 دن بعد، 20 دن بعد، مہینہ بعد صحیح سلامت نکلوں گا، میں جس وقت اس جگہ سے نکلنے والا تھا میں نے آوازیں دیں، میری آوازیں اللّٰہ نے ریسکیو کے لوگوں تک پہنچائیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ جب اس جگہ سے نکل گیا تو اس وقت میں بالکل نارمل تھا، میں جس جگہ میں رہ رہا تھا وہاں پر چلنے پھرنے کی جگہ نہیں تھی، میں صرف اور صرف وضو کے لیے نکلتا تھا، میرے پاس پانی زیادہ ہوتا تو میں وضو کرتا۔
عبدالوہاب نے کہا کہ ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتا وہ جگہ بہت خطرناک تھی، اس جگہ بار بار میں اٹھ سکتا تھا کبھی کبھی میں چکر لگاتا، میرے پاس جگہ کم تھی پاؤں میں کمزوری نہ ہو اور پاؤں رک نہ جائیں اس لیے میں چلتا پھرتا تھا۔
کان کن نے یہ بھی کہا کہ یہ کام بہت سخت ہے ٹھیکیدار کو مزدوروں کا خیال رکھنا چاہیے۔

Leave feedback about this