پاکستان تازہ ترین دنیا

یہودی دولہا شراب کا گلاس کیوں توڑتا ہے؟ یہ رسم ہے یا کوئی پیغام؟

یہودی دولہا شراب کا گلاس کیوں توڑتا ہے؟ یہ رسم ہے یا کوئی پیغام؟

یہودیوں کی شادی میں دولہا شراب کا گلاس کیوں توڑتا ہے؟ کیا یہ محض رسم ہے تاریخ، علامت ہے یا اس کے پیچھے کوئی خفیہ فلسفہ ہے۔

دنیا بھر میں شادی بیاہ کی رسومات اپنی انفرادیت اور ثقافتی اہمیت کے باعث پہچانی جاتی ہیں، ان ہی میں ایک نمایاں روایت یہودی شادیوں میں دیکھی جاتی ہے، جہاں تقریب کے اختتام پر دولہا شراب سے بھرا شیشے کا گلاس اپنے پاؤں سے توڑ دیتا ہے، بظاہر سادہ نظر آنے والی یہ رسم دراصل گہری تاریخی اور مذہبی معنویت رکھتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہودی روایت میں شراب کا گلاس توڑنے کا یہ عمل یروشلم کی تاریخی تباہی کی یاد دلاتا ہے، اس کا مقصد یہ ہے کہ خوشی کے موقع پر بھی اپنی تاریخ کے دکھ اور جدوجہد کو فراموش نہ کیا جائے، یوں یہ رسم خوشی اور غم کے امتزاج کی علامت بن جاتی ہے۔

تقریب کے دوران دولہا اپنی دلہن کو ایک گلاس میں مشروب پیش کرتا ہے اور آخر میں اسی گلاس کو پاؤں تلے روند کر توڑ دیا جاتا ہے۔ اس لمحے کو اکثر مہمان خوشی اور جوش کے اظہار کے ساتھ مناتے ہیں۔

بعض لوگوں کا کہنا یہ بھی ہے کہ یہ عمل زندگی کی ناپائیداری اور رشتوں کی نزاکت کی علامت ہے جو دولہا دلہن کو اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ ازدواجی زندگی کو مضبوط رکھنے کے لیے احتیاط اور ذمہ داری کتنی ضروری ہے۔

اس کے علاوہ یہودی مذہب میں طلاق اور دوسری شادی کے لیے مخصوص مذہبی تقاضے بھی ہیں، جس کے باعث خاندانی نظام نسبتاً مضبوط سمجھا جاتا ہے اور طلاق کی شرح میں کمی دیکھی جاتی ہے۔

یہودیوں کی یہ منفرد روایت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مختلف ثقافتوں میں شادی محض ایک سماجی تقریب نہیں بلکہ تاریخ، عقیدے اور جذبات کا مجموعہ ہوتی ہے۔

 

Leave feedback about this

  • Quality
  • Price
  • Service

PROS

+
Add Field

CONS

+
Add Field
Choose Image