آبنائے ہرمز کے ممکنہ طور پر بند ہونے کے خدشات کے باعث عالمی سطح پر تیل اور پیٹرول کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا خطرہ بڑھ گیا ہے، جبکہ اس حوالے سے ایران کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے بیان نے مزید تشویش پیدا کر دی ہے۔
ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ موجودہ پیٹرول قیمتوں کو “انجوائے کریں”، کیونکہ اگر آبنائے ہرمز میں کسی قسم کی ناکہ بندی ہوئی تو عالمی مارکیٹ میں قیمتیں تیزی سے بڑھ سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال میں 4 سے 5 ڈالر فی یونٹ والے تیل کو لوگ یاد کریں گے، جس سے ممکنہ بحران کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
معروف ماہر معیشت کے مطابق یہ بیان دراصل ایک ریاضیاتی مثال کے ذریعے وارننگ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو تیل کی قیمتوں میں ابتدائی اضافہ کے بعد مزید مسلسل اور بڑا اضافہ بھی دیکھنے میں آ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق پہلے مرحلے میں قیمتیں بڑھیں گی، جبکہ دوسرے مرحلے میں سپلائی چین متاثر ہونے سے عالمی توانائی مارکیٹ پر دباؤ مزید بڑھ جائے گا، جس کے نتیجے میں پیٹرول سمیت دیگر اشیاء کی قیمتیں بھی اوپر جا سکتی ہیں۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی تیل ترسیل کا ایک انتہائی اہم راستہ ہے، جہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی منڈی کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔

Leave feedback about this