معروف بھارتی گلوکارہ آشا بھوسلے کے انتقال کے بعد ان کی آخری رسومات کل شام ادا کی جائیں گی، یہ بات ان کے بیٹے آنند بھوسلے نے بتائی ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق آشا بھوسلے کو سینے میں انفیکشن کے باعث اسپتال میں داخل کیا گیا تھا، جہاں وہ زیر علاج رہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ ان کا انتقال متعدد اعضا کے کام چھوڑ جانے کے باعث ہوا۔
ان کی علالت کی خبر سب سے پہلے ان کی پوتی زنائی بھوسلے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر شیئر کی تھی۔ اپنی پوسٹ میں انہوں نے بتایا تھا کہ آشا بھوسلے کو شدید تھکن اور سینے کے انفیکشن کے باعث اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
آشا بھوسلے کا شمار برصغیر کی عظیم گلوکاراؤں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنے فنی کیریئر کے دوران فلمی گیتوں، غزلوں، قوالی اور کلاسیکی موسیقی سمیت 20 سے زائد زبانوں میں گانے گائے۔
انہوں نے اپنے فنی سفر کا آغاز 1943ء میں محض 10 سال کی عمر میں کیا، جبکہ کلاسیکی موسیقی کی تربیت انہیں اپنے والد دینا ناتھ منگیشکر سے ملی۔
ان کی بے مثال خدمات کے اعتراف میں 2011ء میں گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز نے انہیں دنیا کی سب سے زیادہ ریکارڈنگ کرنے والی گلوکارہ قرار دیا تھا۔ اس کے علاوہ انہیں 2000ء میں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ اور 2008ء میں بھارت کے دوسرے بڑے شہری اعزاز پدم وبھوشن سے بھی نوازا گیا تھا۔
آشا بھوسلے کے انتقال سے موسیقی کی دنیا ایک عہد سے محروم ہو گئی ہے، اور ان کے چاہنے والے انہیں ہمیشہ ان کے لازوال گیتوں کے ذریعے یاد رکھیں گے۔
