ایران،امریکا جنگ بندی کا عالمی خیرمقدم، روس اور ترکیے نے پاکستان کی کوششوں کی حمایت کر دی
روس نے ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا ہے، جبکہ ترکیے نے بھی معاہدے پر مکمل عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
کریملن کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نہ صرف خطے میں تناؤ کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے بلکہ اس سے امن مذاکرات کی راہ بھی ہموار ہوگی۔ روسی حکام نے امید ظاہر کی کہ اس پیش رفت کے بعد دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست رابطے بھی قائم ہوں گے۔
روسی قیادت کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے نتیجے میں امریکا کے پاس یوکرین کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے مزید وقت اور گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب ترکیے نے امریکا، ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ اس پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔ ترک وزارت خارجہ نے کہا کہ جنگ بندی کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ معاہدے کی تمام شرائط کی پاسداری کی جائے۔
ترکیے نے اسلام آباد میں متوقع ایران-امریکا مذاکرات کی بھی مکمل حمایت کا اعلان کیا اور اسے خطے میں امن کے قیام کے لیے مثبت پیش رفت قرار دیا۔
اس سے قبل سعودی عرب بھی جنگ بندی کا خیرمقدم کر چکا ہے۔ سعودی وزارت خارجہ کے مطابق آبنائے ہرمز کا کھلا رہنا ضروری ہے اور امید ظاہر کی گئی ہے کہ یہ جنگ بندی خطے میں پائیدار اور دیرپا امن کی بنیاد ثابت ہوگی۔
ماہرین کے مطابق عالمی طاقتوں کی جانب سے اس جنگ بندی کی حمایت اس بات کا اشارہ ہے کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز ہو رہی ہیں، جبکہ پاکستان کی ثالثی کو بھی عالمی سطح پر اہمیت دی جا رہی ہے۔
