مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
عالمی منڈی میں امریکی خام تیل کی قیمت 13.83 فیصد کمی کے بعد 97.33 ڈالر فی بیرل تک آ گئی، جبکہ برطانوی برینٹ کروڈ 12.70 فیصد کمی کے ساتھ 95.39 ڈالر فی بیرل پر فروخت ہو رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق دو ہفتوں کی جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کی خبروں نے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں بہتری کی امید پیدا کی ہے، جس کے باعث قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ جنگ کے دوران برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی تھی، تاہم جنگ بندی کے اعلان کے بعد اچانک کمی ریکارڈ کی گئی۔
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کے فیصلے کے بعد یومیہ لاکھوں بیرل تیل کی سپلائی بحال ہونے کا امکان ہے، جس سے عالمی مارکیٹ میں مزید استحکام آ سکتا ہے۔
یاد رہے کہ فروری اور مارچ 2026 کے دوران ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی نے پاکستانی معیشت پر شدید دباؤ ڈالا تھا۔ اپریل کے آغاز میں حکومت کو پیٹرول کی قیمت میں 137 روپے اور ڈیزل میں 184 روپے فی لیٹر تک اضافہ کرنا پڑا، جس سے قیمتیں ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھیں۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جنگ بندی برقرار رہی تو پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی ممکن ہے، اور پیٹرول کی قیمت میں 50 سے 80 روپے فی لیٹر تک کمی متوقع ہے۔ آبنائے ہرمز کھلنے سے پاکستان کو خلیجی ممالک سے سستا اور بروقت تیل ملنے لگے گا، جس سے درآمدی اخراجات میں بھی کمی آئے گی۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام کو فوری طور پر منتقل کیا جائے گا، جبکہ نئی قیمتوں کا باضابطہ اعلان جلد متوقع ہے۔
