براعظم ایشیا میں طاقت کے توازن کے حوالے سے نئی بحث چھڑ گئی۔ چین نے خاموشی سے اپنی فوجی حکمت عملی کو بدلتے ہوئے سینکڑوں پرانے لڑاکا طیاروں کو بغیر پائلٹ ڈرونز میں تبدیل کر کے تائیوان کے قریب تعینات کر دیا۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق چین کے یہ طیارے جو ماضی میں سرد جنگ کے دور میں استعمال ہوتے تھے اب جدید کنٹرول سسٹمز سے لیس ہو کر جے-6 ڈرونز کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ اور انہیں ممکنہ جنگی صورتحال میں دشمن کے فضائی دفاعی نظام کو الجھانے، میزائل ذخائر ختم کروانے اور بطور دھوکا یا یک طرفہ حملہ آور پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام بیجنگ کی اس حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ جس کے تحت وہ براہ راست جنگ چھیڑے بغیر تائیوان پر دباؤ بڑھا رہا ہے۔ اس حکمت عملی کو عموماً ”گرے زون” دباؤ کہا جاتا ہے۔ جس میں فوجی مشقیں، فضائی دراندازیاں اور ڈرون سرگرمیاں شامل ہوتی ہیں۔ تاکہ مخالف فریق کی دفاعی تیاریوں کو کمزور کیا جا سکے۔
امریکی تھنک ٹینک مچل انسٹیٹیوٹ سے وابستہ ماہر جے مائیکل ڈہم کے مطابق کم لاگت اور بڑی تعداد میں دستیاب ایسے ڈرونز کسی بھی ممکنہ تنازع کے ابتدائی مرحلے میں فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ یہ دشمن کے دفاعی نظام کو مصروف کر کے جدید اور مہنگے ہتھیاروں کے لیے راستہ ہموار کرتے ہیں۔
اگرچہ چین نے اس تعیناتی کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ تاہم سیٹلائٹ تصاویر اور اوپن سورس تجزیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیجنگ تائیوان کے اطراف اپنی فوجی موجودگی بتدریج بڑھا رہا ہے۔
مبصرین کے مطابق یہ اقدامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا یوکرین اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال میں مصروف ہے۔ جس سے چین کو خطے میں اسٹریٹیجک دباؤ بڑھانے کا موقع مل رہا ہے۔
چینی دفاعی بجٹ میں حالیہ برسوں کے دوران مسلسل اضافہ اور فوجی جدید کاری کے منصوبے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بیجنگ طویل المدتی تیاریوں پر توجہ دے رہا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ فوری طور پر مکمل جنگ کے امکانات کم ہیں، جبکہ دباؤ کی حکمت عملی جاری رہنے کا امکان زیادہ ہے۔
