ایرانی حکام کے مطابق ایران نے امریکی تجاویز کا جائزہ لیا اور انہیں غیرمناسب پایا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ایران صدر ٹرمپ کو اجازت نہیں دے سکتا کہ وہ جنگ کے خاتمے کا وقت تعین کریں اور ایران نے علاقائی ثالث کے ذریعے پیغام دیا ہے کہ وہ اپنا دفاع جاری رکھے گا۔
یہ وینز ویلا نہیں، ایران ہے! امریکی تجاویز پر ایران کا ایسا جواب کہ ٹرمپ کے اوسان خطا ہوگئے
ایران حکام نے بتایاکہ جنگ کے خاتمے کی پہلی شرط حملوں کا رُکنا اور ایرانی عہدیداروں کے قتل کا خاتمہ ہے اور ایران کی دفاعی کارروائیاں ایرانی شرائط پوری ہونے تک جاری رہیں گی۔
حکام کے مطابق جنگ بندی کا فیصلہ صرف ایران کی شرائط پر ہوگا، ایران جنگ کے دوبارہ آغاز کو روکنے کے ٹھوس اور ضمانت شدہ اقدامات کا مطالبہ کرتا ہے، ایران میں جنگ کے نقصانات کا تعین اورادائیگی کی ضمانت دی جائے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ایران پر جاری جنگ اور خطے میں دیگر مزاحمتی گروپوں کے خلاف جنگ روکی جائے اور آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
ایرانی اعلیٰ عہدیدار کے مطابق ایران کا ابتدائی ردعمل امریکا تک پہنچانے کیلئے پاکستان کو بھیج دیا گیا۔
ایران نے شرائط رکھیں کہ جنگ کے خاتمے کیلئے حملوں اور ایرانی عہدیداروں کا قتل روکا جائے، جنگ کے دوبارہ آغاز کو روکنے کے ٹھوس اور ضمانت شدہ اقدامات کیے جائیں اور ایران میں جنگ کے نقصانات کا تعین اورادائیگی کی ضمانت دی جائے۔
ایران کی شرائط کے مطابق ایران پر جاری جنگ اور خطے میں دیگر مزاحمتی گروپوں کے خلاف جنگ روکی جائے اور آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری کو تسلیم کیا جائے۔
خیال رہے کہ جنگ بندی کیلئے ایران کو امریکا کی 15 نکاتی تجاویز پہنچائی گئی ہیں، امریکا کی 15 نکاتی تجاویز میں ایران پر پابندیوں میں نرمی بھی شامل ہے۔
خبرایجنسی کے مطابق پاکستانی عہدیدار نے بتایا کہ ایران کے جوہری پروگرام اور میزائل پروگرام کا خاتمہ بھی امریکی تجاویز میں شامل ہے، اس کے علاوہ آبنائے ہرمز کو کھولنا بھی امریکی تجاویز میں شامل ہے۔انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی ( آئی اے ای اے)کی طرف سے ایران کی نگرانی بھی مجوزہ منصوبے میں شامل ہے، ایران اور امریکا کے درمیان سویلین جوہری تعاون بھی تجاویز میں شامل ہے۔

Leave feedback about this